http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 06 November, 2006, 11:06 GMT 16:06 PST

عبدالحئ کاکڑ
پشاور

باجوڑ کی عورتوں کی بے بسی

پشتون معاشرے کے ایک قدیم رواج کے مطابق جب دو متحارب قبائل کے درمیان جھگڑا رکوانے کے تمام راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور جرگہ بھی تصفیہ کرانے میں ناکام ہو جاتا ہے تو عورتیں سر پر قرآن رکھ کر بیچ میں آ جاتی ہیں۔

ایسی صورتحال میں اکثر ان خواتین کے احترام میں جھگڑا رک جاتا ہے اور کبھی کبھار تو مسئلے کاحل بھی نکل آتا ہے۔

باجوڑ کے ایک قبائلی خورشید احمد کا کہنا ہے کہ پشتون معاشرے کی یہ صدیوں پرانی رسم بھی بہت سی اور چیزوں کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بھینٹ چڑھ گئی ہے۔

خورشید احمد کے مطابق ’دہشت گردی کے خلاف جنگ سے قبل ہمارے قبائلی معاشرے میں امن کی بحالی میں عورتوں کا کردار بہت اہم تھا۔ میں نے ایسے جھگڑے اور جرگے دیکھے ہیں جن کا آخری حل عورتوں نے ممکن بنایا۔ لیکن اب آہستہ آہستہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نے عورتوں کا یہ رول ختم کردیاہے۔ عورتوں کو گھروں میں محصور کردیا گیا ہے اور ان کی آواز نہیں سنی جاتی حالانکہ عورت اس جنگ کی بڑی قیمت اداکررہی ہے۔‘

باجوڑ کی ایک خاتون فاطمہ بی بی نے بی بی سی کو بتایا کہ پورے باجوڑ کی خواتین جنگ کی وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

’ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے خوف سے آزاد ہوں اور علاقے میں امن لوٹ آئے۔ ہمارے پیارے نشانہ بن رہے ہیں اور ہم زبان تک نہیں کھول سکتے۔‘

فاطمہ بی بی کی طرح دو اور خواتین نے بھی اپنا نام ظاہر کیئے بغیر بی سی سے بات کی۔ یہ خواتین زندگی میں پہلی مرتبہ میڈیا سے بات کر رہی تھیں۔ تینوں باجوڑ پر ہونے والی حالیہ بمباری پر انتہائی برہم نظر آئیں۔

دوسری کا کہنا تھا: ’ہم پر اوپر سے بم گرائے جارہے ہیں۔جنگ زمین سے فضامیں پہنچ گئی ہے۔ ان حالات میں ہم عورتیں کیسے جھگڑا رکوا سکتی ہیں؟ اگر قبیلوں کے درمیان لڑائی ہو تو ممکن ہے عورتیں بیچ میں آکر صلح صفائی کروائیں لیکن اب ہم بہت بےبس ہیں۔‘

قبائلی خواتین کی اس بے بسی کی بڑی وجہ شاید جنگ میں ملوث کرداروں اور حکمت عملی میں تبدیلی ہے۔ جانے پہچانے قبیلوں اور خاندانوں کی جگہ نقاب پوش جنگجوؤں اور حکومتی فورسز نے لے لی ہے اور طاقت کے اس نئے توازن میں قبائلی خواتین کے کردار کا صفایا ہوگیا ہے۔

اب ان کا کردار صرف اپنے پیاروں کا دکھ سہنے اور جنگ کی پرخوف فضاء میں سہمے ہوئے بچوں کو سنبھالنے تک محدود ہے۔

باجوڑ کی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ مدرسے پر حملے کے چند روز بعد بھی وہ اور ان کے بچے اس خوف کا شکار ہیں کہ کہیں پھر سے بمباری نہ ہو جائے۔ ان کی بارہ سالہ بیٹی ثانیہ اسکی ایک مثال ہے جس نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو اپنا خوف کچھ یوں بیان کیا۔

’ہم بچوں کا کیا قصور ہے۔میں ایک بچی ہوں۔ ہم سکول اور مدرسے جانا چاہتے ہیں لیکن خوف کی وجہ سے نہیں جا سکتے۔ مجھے ہروقت یہ خوف لگا رہتا ہے کہ کہیں باہر جاکر بمباری کا نشانہ نہ بن جاؤں۔‘