Monday, 06 November, 2006, 14:34 GMT 19:34 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) علی محمد جان اورکزئی بحثیت گورنر سرحد شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ کے پہلے سرکاری دورے پر گئے ہوئے ہیں۔
اس موقع پر تقریباً چھ سو قبائلی عمائدین کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے علاقے میں امن عامہ کی صورت حال بہتر کرنے پر زور دیا اور کئی ترقیاتی سکیموں کا اعلان کیا۔ اجتماح میں شریک عمائدین میں علماء اور قبائلی ملک حضرات بھی شامل تھے۔
تاہم اس اجتماع میں مقامی طالبان اور ان کے رہنما موجود نہیں تھے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا اس دورے کے دوران گورنر اور مقامی طالبان قیادت کے درمیان ملاقات کا امکان بھی ہے کہ نہیں؟
گورنر اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد سے ابھی تک کوئی براہ راست ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ یاد رہے کہ حکومت نے اس سال پانچ سمتبر کو میران شاہ میں مقامی طالبان کے ساتھ ایک امن معاہدہ کیا تھا۔
اس معاہدے کے بعد فوج اور مقامی طالبان کے درمیان تو لڑائی روک گئی ہے لیکن عام شہریوں، حکومت کے حامی ملکوں اور مبینہ مخبروں کی ہلاکت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
توقع ہے کہ گورنر میران شاہ میں رات گزارنے کے بعد کل جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا روانہ ہوں گے۔