Sunday, 05 November, 2006, 19:15 GMT 00:15 PST
ذیشان حیدر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے مسلم ممالک کی اقتصادی یونین کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔
اسلام آباد میں دوسرے عالمی اسلامی اقتصادی فورم کی افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ آپس میں آزاد تجارتی معاہدوں اور سرمائے اور خدمات کی آزادنہ منتقلی پر عمل کرتے ہوئے ایک’اسلامک اکنامک یونین‘ قائم کریں۔
انہوں نے کہا کہ تمام مسلم ممالک مل کر ایک ایسی بہترین ’کیپیٹل مارکیٹ‘ تشکیل دے سکتے ہیں جو کہ بین لاقوامی سرمایہ کاروں کو راغب کرے اور اس سرمایہ کاری کو مسلم مالک کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے۔ انہوں نے مجوزہ اسلامی اقتصادی یونین کے قیام کے سلسلے میں اسلامی کانفرنس تنظیم اور اسلامی ترقیاتی بنک کے مؤثر کردار پر بھی زور دیا۔
پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ قدرت نے مسلم ممالک کو بیش بہا قدرتی وسائل سے نوازا ہے جن میں دنیا کے ستّر فیصد ہائیڈرو کاربن ذخائر بھی شامل ہیں لیکن اس کے باوجود دنیا کی انتالیس فیصد مسلم آبادی پسماندہ ہے اور غربت کی لکیر کے نیچے زندگی بسر کرتی ہے اور اس غربت کے خاتمے کے لیے تمام مسلم ممالک کو مل کر کام کرنا ہو گا۔
دوسرا عالمی اسلامی اقتصادی فورم پانچ نومبر سے سات نومبر تک جاری رہے گا اور اس میں مسلم ممالک کے وفود کے علاوہ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن بھی شرکت کر رہے ہیں۔ اس فورم میں غربت، تعلیم، انفراسٹرکچر کی تیاری اور خواتین کے حقوق جیسے موضوعات کےعلاوہ موجودہ صدی میں مسلم ممالک کو درپیش مسائل پر بات ہو گی۔
دوسرا اقتصادی فورم |
یاد رہے کہ پہلا عالمی اسلامی اقتصادی فورم اکتوبر سنہ 2005 میں ملائیشیا میں منعقد ہوا تھا اور اس کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اسے سالانہ بنیادوں پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔