Thursday, 02 November, 2006, 03:32 GMT 08:32 PST
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں دینی مدرسے پر ہونے والی بمباری کے تین روز گزر جانے کے بعد ایک شخص کی گولیوں سے چھلنی کی ہوئی لاش ملی ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے مخبری کے شبہ میں مارا گیا ہے۔
باجوڑ کے علاقے خار سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق یہ لاش کھیتوں سے ملی ہے اور یہ دو دن سے ادھر پڑی تھی لیکن کوئی اسے اٹھا نہیں رہا تھا۔
ہلاک ہونے والے شخص کا نام جان محمد بتایا گیا ہے اور وہ مدرسے سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر رہتا تھا۔ اس کی عمر چالیس اور پینتالیس سال کے درمیان تھی اور اس کے خاندان کا تعلق اس علاقے سے نہیں بلکہ بنیر کے علاقے سے بتایا جاتا ہے۔
مقتول کی لاش ’گولیوں سے چھلنی‘ کی ہوئی تھی۔ تاہم علاقے کے حکومت مخالف رہنما مولوی فقیر کا کہنا تھا کہ جان محمد تو ’بمباری میں ہلاک ہوا تھا۔‘
حکومت پاکستان کا موقف ہے کہ اس مدرسے کو اس لیے نشانہ بنایا گیا کہ اس میں مذہبی انتہاں پسندوں کو دہشت گردی کی تربیت دی جا رہی تھی اور اس کے دیگر انتہا پسند حلقوں سے روابط تھے۔ مقامی لوگ اس کی تردید کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ مدرسے کا دہشت گردوں یا غیر ملکیوں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔