Wednesday, 01 November, 2006, 11:34 GMT 16:34 PST
رفعت للہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
گورنر سرحد علی محمد جان اورکزئی نے باجوڑ ایجنسی میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں اس تاثر کوبالکل بے بنیاد قرار دیا ہے کہ یہ حملہ امریکہ نے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کارروائی پاکستانی افواج نے کی ہے۔
ادھر باجوڑ کے واقعے کے خلاف قبائلی علاقوں اور صوبائی دارالحکومت پشاور میں تیسرے روز بھی احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔
بدھ کے روز پشاور میں صحافیوں کے ساتھ مختصر بات چیت کرتے ہوئے گورنر علی محمد جان اورکزئی نے کہا ’ہمیں امریکہ یا کسی اور ملک سے مدد لینے کی کوئی ضرورت نہیں، اللہ کا فضل ہے ہمارے پاس وسائل موجودہے اور یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ اس حملے میں امریکہ کی مدد لی گئی۔‘
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج نے انہیں اعتماد میں لیکر مدرسے کے اوپر حملہ کیا تھا۔
گورنر کا کہنا تھا کہ ان کی اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں کوئی عام شہری نہیں تھا بلکہ جو لوگ اس حملے میں ہلاک ہوئے ہیں ان کی عمریں اٹھارہ سال سی لیکر پچیس تئیس سال کے درمیان ہیں۔
اس سوال کے جواب میں کہ اس حملے سے باجوڑ ایجنسی میں جاری امن کی کوششوں پر اثر پڑے گا علی محمد جان اورکزئی نے کہا کہ ’ اتنا خاص اثر تو نہیں پڑے گا البتہ امن کی کوششیں میں تاخیر ضرور ہوسکتی ہے لیکن یہ عمل بند نہیں ہوگا بلکہ یہ جاری رہے گا۔‘
انہوں نے اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا کہ باجوڑ ایجنسی کی انتظامیہ اور پاک فوج کے مابین فقدان کے باعث یہ واقعہ رونما ہوا۔
’پولیٹکل انتظامیہ اور فوج کے درمیان رابطے کا کوئی فقدان نہیں۔ قبائلی علاقوں کے بارے میں حکومت کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہاں ترقیاتی کام بھی جاری رہے۔ قبائلی عوام کی معاشی حالت بھی بہتر ہو اور اگر فوجی کارروائی کی ضرورت پیش آتی ہے تو وہ بھی ساتھ ساتھ چلے گی۔