Tuesday, 31 October, 2006, 12:13 GMT 17:13 PST
رحیم اللہ یوسف زئی
باجوڑ
باجوڑ میں سوموار کو بمباری کے واقعے کو مقامی لوگ کہنٹر میں امریکی فوج کو طالبان کی طرف سے درپیش شدید مزاحمت سے جوڑ رہے ہیں اور وہ اسے پاکستان فوج کی کارروائی تسلیم کرنے کے لیئے تیار نہیں ہیں۔
حکومت کی طرف سے صحافیوں کو اس علاقے میں جانے سے بھی روکا جا رہا ہے جس کی وجہ سے حقائق تک پہنچنا مشکل ہو رہا ہے۔
حکومت اس علاقے میں خود حملے کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے تاہم صوبہ سرحد میں مقامی افراد اس بات کو تسلیم نہیں کررہے ہیں کہ حملہ پاک فوج نے کیا ہے۔ اور وہ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ وہاں حکومت قبائلی عمائدین سے مذاکرات کررہی تھی اور عمائدین کے ذریعے تقریباً تمام معاملات طے پا گئے تھے اور پیر کو امن معاہدے پر دستخط ہونے تھے۔
باجوڑ کا مرکزی مقام خار حملے کے مقام سے آٹھ دس کلو میٹر دور ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ باجوڑ میں جس مدرسے کو نشانہ بنایا گیا وہ بہت پرانا ہے اور وہاں پر اگر کوئی فوجی تربیت دی جا رہی تھی یا غیر ملکی پناہ لیئے ہوئے تھے تو پاکستان کی فوج یا ملیشیا کے لیئے مشکل نہیں تھا کہ وہ اس مدرسے کا محاصرہ کرکے اس کی تلاشی لیں اور مشتبہ افراد کو پکڑلیں۔ امن معاہدے کے تحت وہاں کے قبائلی عمائدین نے ضمانت دینی تھی کہ ان کے ہاں غیر ملکی پناہ نہیں لیں گے۔ مدرسوں کا غلط استعمال نہیں ہوگا۔
![]() | |
| باجوڑ بمباری کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں |
فاٹا کے ان علاقوں کے بارے میں امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ تین قبائلی ایجنسیوں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اور باجوڑ میں القاعدہ کے اراکین اور طالبان کے کمانڈر چھپے ہوئے ہیں۔ ان کا پاکستان کی حکومت سے یہی مطالبہ رہا ہے کہ وہ اور فوج یہاں اپنی رٹ قائم کرے اور ان لوگوں کا راستہ روکے تاکہ یہ افغانستان جا کر امریکی اور نیٹو افواج پر حملے نہ کرسکیں۔
باجوڑ کیونکہ افغانستان کے صوبے کنٹہر کے قریب واقع ہے جہاں اس وقت امریکی فوج کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسی صورت میں امریکی فوج کا خیال ہے کہ مشتبہ افراد حملےکرنے سے قبل یا بعد میں باجوڑ میں پناہ لیتے ہیں۔ ان ہی وجوہات کی بناء پر امریکہ کی توجہ اب ان علاقوں پر مزکور ہو گئی ہے۔