Tuesday, 31 October, 2006, 16:58 GMT 21:58 PST
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں طالبان کے رہنما حاجی عمر نے کہا ہے کہ باجوڑ میں مدرسے پر بمباری جیسے واقعات سے حکومت سے ان کا معاہدہ ختم ہو سکتا ہے اور پورے علاقے میں پاکستان کے ساتھ جنگ شروع ہو سکتی ہے۔
بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا ہے کہ اگر باجوڑ میں مولانا فقیر محمد اور دوسرے قبائل پاکستان کے خلاف جنگ شروع کرتے ہیں اور ان سے مدد طلب کی جاتی ہے تو وہ بھرپور مدد فراہم کریں گے۔
پاکستان سے اپنے معاہدے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اگرپاکستان دوسرے علاقوں میں ظلم کرتا ہے تو وہ اس پر خاموش نہیں رہ سکتے۔
انہوں نے معاہدے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان حکومت کے ساتھ معاہدہ جنوبی وزیر ستان کی حد تک تھا اور اس معاہدے میں ایسی کوئی شق نہیں کہ اگر پاکستان کسی دوسری جگہ ظلم کرے تو وہ خاموش رہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ باجوڑ کے لوگوں کو ’مجاہدین‘ اور اسلحہ دونوں فراہم کرسکتے ہیں۔
حاجی عمر جنہوں نے گزشتہ ماہ پاکستان حکومت سے وزیر ستان میں امن قائم رکھنے کے لیے ایک معاہدہ کیا تھا۔ حاجی عمر نے کہا کہ معاہدے کے باوجود ان کے علاقے پر امریکی جاسوس طیارے پرواز کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ جہاز اب وہاں کیا لینے آتے ہیں۔
حاجی عمر نے کہا کہ وہ جلسہ جلوس کرنے والے لوگ نہیں ہیں اور وہ اپنے خلاف ظلم کو روکنے کے لیے مسلحہ جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔