Tuesday, 31 October, 2006, 18:42 GMT 23:42 PST
مسعود خان
صحافی
خار میں احتجاجی جلسے سے خطاب کے دوران حکومت کو مطلوب مولانا فقیر محمد نے میجر شوکت سلطان کی دھمکی کو مسترد کرتے ہوئے ’جہاد‘ جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
باجوڑ بمباری کے خلاف احتجاجی جلسے میں مستعفی رکن اسمبلی ہارون رشید، سابق سینیٹر مولانا عبدالرشید اور مجاہد کمانڈر مولانا فقیر محمد سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
جلسے کے اختتام پر مشتعل مظاہرین نے خار کا رخ کرتے ہوئے راستے میں دکانوں اور سرکاری املاک پر پتھراؤ کیا۔
کمانڈر فقیر محمد نے امن معاہدے کے جرگے کو ناکام قرار دیا۔ امن معاہدے کے بانی ملک عبدالعزیز نے کہا کہ ’ایک طرف حکومت مولانا فقیر محمد کی قیادت میں ہم سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے تھی اور حملے کی صبح اس معاہدے پر دستخط بھی ہونے تھے۔ دوسری جانب حکومت نے بمباری کرکے جرگہ کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ناکام کردیا جو کہ ایک ظلم ہے‘۔
خار میں لوگوں میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے اور لوگوں نے امریکہ پر بمباری کے شبہے کا اظہار کیا ہے۔
حملے میں زخمی ہونے والے تین افراد خار کے ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ حملے میں مرنے والوں کی عمریں بارہ سے سولہ سال کے درمیان تھیں۔ مقامی حکام کی جانب سے زخمیوں کے گرد سکیورٹی تعینات کی گئی ہے تاکہ میڈیا کے نمائندے ان سے بات نہ کر سکیں۔
قاضی حسین احمد خار پہنچنے والے ہیں جس کے پیش نظر اب بازار میں فورس تعینات کردی گئی ہے۔
مرنے والوں میں سے ایک بچے کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ ان کا بچہ عید کی چھٹیاں گزار نے کے بعد مدرسے گیا تھا اور اب اس کی لاش ملی ہے۔ مرنے والے بچے کے باپ نے بتایا کہ یہ سراسر ظلم اور نا انصافی ہے۔