http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 31 October, 2006, 08:59 GMT 13:59 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

یومِ احتجاج: ’جہاد اور انتقام‘ کا عہد

باجوڑ ایجنسی کے علاقے خار میں گزشتہ روز فوجی بمباری سے اسی افراد کی ہلاکت پر احتجاج کرتے ہوئے ہزاروں قبائلیوں نے مظاہرہ کیا ہے اور ’جہاد جاری رکھنے اور شہیدوں کے لہو کا انتقام لینے کا عہد کیا ہے۔‘

اس مظاہرے کے علاوہ تیمرگرہ اور ٹانک سے بھی احتجاجی مظاہروں کی خبریں آ رہی ہیں۔ خار میں قبائلی مظاہرین ’بش مردہ باد اور مشرف مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

قبائلی علاقوں کے علاوہ پاکستان کے دیگر حصوں میں بھی یومِ احتجاج کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرے منعقد کیئے جا رہے ہیں۔ مقامی وقت کے مطابق پانچ بجے شام کراچی میں مظاہرہ ہوگا جبکہ اسلام آباد میں دینی جماعتوں نے چار بجے کے قریب مظاہرے کا اعلان کر رکھا ہے۔

باجوڑ مدرسے پر بمباری: اسی افراد ہلاک
بمباری کے خلاف کراچی میں مظاہرہ
باجوڑ بمباری، ملک بھر میں احتجاج
باجوڑ مدرسے پر بمباری کی تصاویر
حملہ امریکہ نے کیا: صوبائی وزیر
مدرسوں میں کون مرتا ہے، آپ کیا کہتے ہیں؟

متحدہ مجلسِ عمل کے رہنما قاضی حسین احمد جنہوں نے پیر کو دعویٰ کیا تھا کہ خار میں حملہ پاکستانی فوج نے نہیں بلکہ امریکہ نے کیا تھا، باجوڑ پہنچنے کی کوشش ک رہے ہیں تاکہ اعلان کردہ یومِ احتجاج کی قیادت کر سکیں۔

اے پی کے مطابق خار کے گرد و نواج میں لاؤڈ سپیکروں پر پشتو زبان میں لوگوں کو ’جہاد‘ کرنے کے لیے کہا جا رہا ہے اور گزشتہ روز کی بمباری میں لوگوں کی ہلاکت کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

مولانا روح الامین نے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے: ’ہم شہدا کے خون کا انتقام لیں گے۔ کفر کی طاقتیں ہمارے وجود کو مٹانے کے درپے ہیں۔‘

خار میں آج دوسرے روز بھی بازار بند ہیں اور القاعدہ سے تعلق کے الزام میں حکومت کو مطلوب مولانا فقیر محمد نے بھی ایک ریلی کی قیادت کی ہے۔

گزشتہ روز ایم ایم اے کے قائد قاضی حسین احمد نے منگل کو ملک بھر میں ان ہلاکتوں کے خلاف یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا تھا اور بتایا کہ وہ چار نومبر سے شروع ہونے والے جماعتِ اسلامی کے شوریٰ کے اجلاس میں حکومت کے خلاف تحریک پر غور کریں گے۔