http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 31 October, 2006, 10:09 GMT 15:09 PST

فراز ہاشمی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لندن

باجوڑ پر سال میں دوسری بمباری

پاکستان کےقبائلی علاقے باجوڑ میں سوموار کو ایک سال میں دوسری مرتبہ بمباری کی گئی ہے جس کے بارے میں مقامی لوگوں اور سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ امریکی فوج کی طرف سے کی گئی ہے۔

پہلی مرتبہ اس سال جنوری میں باجوڑ کے علاقے ڈمہ ڈولا میں امریکی فوج کی بمباری میں اٹھارہ عورتیں اور بچے ہلاک ہو گئے تھے۔ امریکی فوج کی طرف سے پاکستان کے اندر کارروائی کے اس واقعے پر پاکستان حکومت نے امریکی حکومت سے باقاعدہ طور پر مذمت بھی کی تھی۔

ڈمہ ڈولا میں جنوری میں عید الضحٰی کے فوری بعد کی جانے والی بمباری کے بارے میں امریکی حکام نے کہا تھا کہ اس کا اصل نشانہ القاعدہ کے سینیئر رہنما ایمن الزواہری تھے۔ اس بمباری مں ڈمہ دولا کے تین مکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جن کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ وہاں ایمن الزواہری عید کے موقعے پر ایک دعوت میں مدعو ہیں۔

خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق ایمن الزواہری نے آخری لمحے پر اس دعوت میں شریک ہونے کا ارادہ ترک کر دیا تھا۔

لیکن سوموار کو خار کے علاقے میں ہونے والی بمباری سے جس میں اسی افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور مقامی لوگوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس میں کچھ بچے بھی شامل ہیں پاکستان کا اصرار ہے کہ امریکی فوج ملوث نہیں۔

اس واقعے کے فوری بعد حکومتِ پاکستان کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے امریکی فوج کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی پاکستان فوج نے کی ہے۔

تاہم عینی شاہدین کا کہنا ہے پاکستانی فوج کے ہیلی کاپٹر اصل بمباری کے پندرہ بیس منٹ بعد جائے وقوعہ پر پہنچے اور انہوں نے آس پاس کے پہاڑوں پر کچھ راکٹ داغے۔

ایک امریکی ٹی وی چینل نے بھی باجوڑ میں حالیہ حملے میں امریکی فوج کے شامل ہونے کی خبر دی تھی جسے حکومت پاکستان کے ترجمان نے مسترد کر دیا۔

پاکستان فوج کے ترجمان نے بعد میں یہ اعتراف کیا کہ باجوڑ میں کی جانے والی کارروائی پاکستان فوج نے امریکی فوج کی طرف سے فراہم کردہ خفیہ اطلاع پر کی تھی۔