Monday, 30 October, 2006, 16:23 GMT 21:23 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں پیر کی صبح دینی مدرسے پر ہونے والے حملے کے بارے میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طیاروں نے تین بار مدرسے کو نشانہ بنایا اور حملے کے وقت سارا علاقہ ایسا لرز رہا تھا جیسے پورے علاقے میں خوفناک قسم کا زلزلہ آیا ہو۔
انہوں نے کہا کہ جب وہ بمباری کا نشانہ بننے والے مقام پر پہنچے تو وہاں پر عجیب صورتحال تھی ہر طرف لاشیں پڑی تھیں اور مقامی لوگ انہیں اکٹھا کرنے میں مصروف تھے۔ ’ کئی لاشیں ایسی تھیں جن کے اعضاء الگ ہو گئے تھے اور وہ ٹکڑوں میں بکھری ہوئی تھیں جنہیں مقامی لوگ اکٹھا کر کے چارپائیوں پر رکھ رہے تھے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ حملے کے وقت مدرسے میں تراسی طلباء موجود تھے جن میں اسی ہلاک اور تین شدید زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں مدرسے کے مہتمم مولانا لیاقت اور تین اساتذہ بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے ایک ہاتھ دیکھا جس کے ساتھ سر اور دھڑ نہیں تھا۔ زیادہ تر لاشیں ایسی تھیں جیسے کوئی چیز جل رہی ہو اور اس پر پانی ڈال دیا جائے‘۔
باجوڑ ایجنسی سے متحدہ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ ہارون رشید جنہوں نے آج شام کو اس واقعے کے خلاف بطور احتجاج اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے، نے بی بی سی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں اکثریت طالب علموں کی تھی جن کی عمریں پندرہ سال سے کم تھی۔
’میرا گھر مدرسے سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ وہاں کوئی غیر ملکی نہیں تھا بلکہ جو اس واقعے میں شہید ہوئے ہیں یہ سب علاقے کے مقامی غریب لوگ تھے۔ اب پندرہ سولہ سال کے طالب علم کیسے دہشت گرد ہوسکتے ہیں‘۔
انہوں نے الزام لگایا کہ حملہ امریکی طیاروں نے کیا ہے لیکن فوجی ترجمان شوکت سلطان امریکہ کی بندوق اپنے کاندھے پر رکھ کر اس کی ذمہ داری قبول کررہے ہیں۔