Monday, 30 October, 2006, 08:49 GMT 13:49 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
عینی شاہدین کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں پیر کی صبح ہونے والے کاروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اسّی تک ہو سکتی ہے جبکہ کے کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
علاقے کے ایک مقامی صحافی ابراہیم خان نے باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ انہوں نے خود ہلاک ہونے والوں کے نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ انہوں نے کہا کہ نماز جنازہ کے بعد مقامی علماء کرام نے بمباری میں اسّی افراد کے ہلاکت کا اعلان کیا۔
ہلاک ہونے والوں میں بچوں کے علاوہ کالعدم تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے نائب امیر مولانا لیاقت بھی شامل ہیں۔
ابراہیم کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کا جنازہ سنئیر صوبائی وزیر سراج الحق نے پڑھائی۔
یہ واقعہ آج صبح باجوڑ کے صدر مقام خار کے شمال میں بارہ کلومیٹر دور انعام خورد چینگئی کے علاقے میں پیش آیا جہاں سے افغان سرحد پندرہ بیس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
ادھرعینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ اچانک دو طیارے فضا میں نمودار ہوئے اور مولانا لیاقت کے نام سے مشہور مدرسے پر بمباری شروع کردی۔ علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ طیاروں نے تین بار مدرسے کو نشانہ بنایا اور یہ حملے اتنے شدید تھے کہ اس کی آوازیں کئی کلومیٹر تک سنی گئی۔
ایک عینی شاہد جاوید نے بتایا کہ حملے کے بعد گن شپ ہیلی کاپٹر فضا میں نمودار ہوئے تاہم ان کی جانب سے بمباری نہیں کی گئی وہ کئی گھنٹوں تک فضا میں گھومتے رہے۔
ادھر اس حملے کے بعد باجوڑ کے صدرمقام خار میں تمام سیاسی جماعتوں کے ایک جلسہ منعقد ہوا جس میں علاقے کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ جلسے میں باجوڑ سے رکن قومی اسمبلی ہارون رشید نے اس واقعے کے خلاف اپنے نشست سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صوبہ سرحد کے سینیئر وزیر سراج الحق نے بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے تاہم سرکاری ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔