Friday, 27 October, 2006, 09:53 GMT 14:53 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان کے سابق صدر غلام اسحاق خان طویل علالت کے بعد صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 91 سال تھی۔
غلام اسحاق خان 1988 سے 1993 تک ملک کے صدر رہے۔ انہوں نے تقسیم سے قبل ایک سِول اہلکار کی حیثیت سے اپنے کریئر کا آغاز کیا اور متعدد اہم عہدوں کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
سابق صدر غلام اسحاق خان نے زندگی کی اکانوے بہاروں میں شاید ہی کوئی اہم سرکاری عہدہ ہوگا جس پر فرائض انجام نہ دیے ہوں۔
صوبہ سرحد کے ضلع بنوں کے علاقہ اسماعیل خیل سے تعلق رکھنے والے غلام اسحاق خان نے تمام عمر بطور ایک بیوروکریٹ کے گزاری اور ان کے رفقاء کے بقول آخری دم تک کے افسر کے طور پر رہے۔ ان سے بیوروکریسی کے طور طریقے شاید ہی کوئی اور بہتر انداز میں جانتا ہو۔
قیام پاکستان کے بعد سیکرٹری اطلاعات مقرر ہوئے۔ انییس سو اکسٹھ میں چیئرمین واپڈا اور بعد میں سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن، گورنر سٹیٹ بنک اور سیکرٹری دفاع بھی رہے۔ وہ پہلے پاکستانی تھے جنہیں انیس سو اٹھہتر میں سیکرٹری جنرل ان چیف کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔
وہ وزیر خزانہ بھی رہے اور ملک کے لیئے خدمات کے پیش نظر انہیں ستارہ پاکستان اور ہلال پاکستان کے اعزازات سے بھی نوازا گیا۔ وہ سینیٹ کے رکن بھی رہے اور ایوان بالا کے چیئرمین بھی۔
انیس سو اٹھاسی میں وہ صدر جنرل ضیاالحق کی موت پر وہ قائم مقام صدر بنے۔ پیپلز پارٹی اور اسلامی جمہوری اتحاد کے ساتھ ایک معاہدے کے تحت وہ صدر منتخب ہوئے لیکن جلد ہی متنازعہ آٹھویں آئینی ترمیم کے تحت انہوں نے پہلے بےنظیر اور بعد میں نواز شریف حکومتوں کا بدعنوانی اور نااہلی کے الزامات کے تحت خاتمہ کر دیا۔
![]() | |
| جی آئی کے انسٹییوٹ آف انجنیئرئنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے بوڈ آف گورنر کی ایک تصویر (ڈاکٹر قدیر خان غلام اسحاق کے برابر بیٹھے ہیں) |
اس وجہ سے بعض لوگوں کے خیال میں ان کے کردار کے بارے میں بہت سے سوالات بلاجواب ہی رہ گئے۔
صوبہ سرحد میں ان کا نام غلام اسحاق خان انسٹییوٹ آف انجنیئرئنگ اینڈ ٹیکنالوجی جیسے اعلی تعلیمی ادارے کے ٹوپی کے مقام پر قیام کی وجہ سے زندہ رہے گا۔