http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 25 October, 2006, 14:03 GMT 19:03 PST

ایوب ترین
بی بی سی کوئٹہ

عید پر بلوچستان میں ’یوم سیاہ‘

فوج کے ہاتھوں بلوچ رہنماء نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد آنے والی پہلی عید بلوچستان کے اکثر علاقوں میں ’یوم سیاہ‘ کے طور پر منائی جا رہی ہے۔

عید یوم سیاہ کے طور پر منانے کی اپیل بلوچستان نیشنل پارٹی نے کر رکھی ہے۔ بلوچستان کے بیشتر سیاسی رہنماء اسی سالہ نواب بگٹی کی ہلاکت کو فوجی جارحیت قرار دیتے آرہے ہیں۔

بلوچستان کے سابق گورنر اور وزیر اعلیٰ اکبر خان بگٹی دو ماہ قبل کوہلو کے علاقے بمبور میں فوج کے ساتھ ایک مبینہ جھڑپ کے دوران اپنے کچھ ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے تھے۔

یوم سیاہ کے سلسلے میں بلوچستان کے شہر نوشکی سمیت کئی بڑے شہروں میں نماز عید کے موقع پر نواب بگٹی کی روح کے ایصال ثواب کے لیۓ خصوصی دعائیں کی گئیں۔ سیاسی کارکنوں نے اس موقع پر احتجاج کے طور پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔

ادھر ڈیرہ بگٹی سے آنے والی اطلاعات کے مطابق عید انتہائی سادگی سے منائی جا رہی ہے جبکہ سوئی میں بعض مقامات پر نامعلوم افراد نے احتجاجاً سیاہ جھنڈے بھی لہرائے ہیں۔

عید کی صبح نامعلوم افراد کی طرف سے سوئی میں دو راکٹ بھی فائر کیئے گئے، جن میں سے ایک، اطلاعات کے مطابق، عیدگاہ کے قریب جبکہ دوسرا زیر تعمیر فوجی چھاؤنی کے احاطہ میں گرا۔ تاہم راکٹ گرنے کے ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ھوا۔

خود کو بلوچ مزاحمت کاروں کا ترجمان کہنے والے وڈیرہ عالم خان نے عید کے روز سوئی میں راکٹ باری کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فوجی چھاؤنی میں گرنے والے راکٹ سے جانی نقصان بھی ہوا۔ تاہم کوئٹہ میں حکومتی ذرائع اس واقعہ کی تصدیق نہیں کر رہے۔