Tuesday, 24 October, 2006, 21:52 GMT 02:52 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
سندھ کے لاپتہ صحافی مہرالدین مری رہا ہوکر اپنے گھر پہنچ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان سے نواب خیر بخش مری اور بالاچ مری کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔
بدین ضلع سے تعلق رکھنے والے روزانہ کاوش اور نجی ٹی وی چینلانہیں تقریبا چار ماہ قبل ٹھٹہ کے نزدیک حراست میں لیا گیا تھا، جس کے خلاف صحافیوں نے سندھ بھر میں احتجاج کیا تھا۔
مہر الدین مری کو ان کے مطابق پیر کی شب بعض افراد حیدرآباد کے قریب بدین روڈ پر چھوڑ کر گئے جس کے بعد انہوں نے دوستوں کو فون کر کے آگاہ کیا جو انہیں گولاڑچی لے گئے۔
مہرالدین نے بتایا کہ ان سے خیربخش مری اور ان کے بیٹے بالاچ مری سے تعلقات کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ وہ خفیہ ادارے کی تحویل میں تھے اور انہیں ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی گئیں۔ اس دوران انہیں مختلف مقامات پر آنکھوں پر پٹی باندھ کے رکھا گیا، یہ پٹی صرف اس وقت اتاری جاتی تھی جب وہ نماز پڑھنا چاہتے تھے۔
مہر الدین نے بتایا کہ انہوں نے بدین ضلع کے علاقے کڑیو گہنور میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور مقامی دیہاتیوں کے درمیان تنازع کی رپورٹنگ کی تھی جس کی وجہ سے وہ ایجنسیوں کے عتاب میں آگئے تھے۔