Tuesday, 24 October, 2006, 05:12 GMT 10:12 PST
عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پاکستانی وکلا کی انسانی حقوق کمیٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں اس سال کے پہلے نو مہینوں میں پانچ ہزار آٹھ سو افراد نے خود کشی کی۔ یوں ملک میں ہر روز اوسطا اکیس سے زیادہ لوگ مختلف وجوہ کی بنا پر اپنی زندگی ختم کرلیتے ہیں۔
یہ اعداد و شمار وکلا کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کی جنوری سے ستمبر سنہ دو ہزار چھ تک پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر جاری کی گئی رپورٹ میں دیے ہیں۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ ملک میں سٹریٹ کرائم بڑھ رہا ہے اور ہر دن ڈھائی ہزار موبائل فون اور گاڑیاں چھننے کے تین سو واقعات ہوتے ہیں۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ سٹریٹ جرائم کی شرح سب سے زیادہ کراچی میں ہے۔
پانچ ہزار دو سو بیاسی افراد ہلاک |
لائیرز کمیٹی برائے انسانی حقوق کی رپورٹ کے مطابق اس مدت میں ملک میں پانچ ہزار آٹھ سو افراد نے بھوک، غربت، گھریلو جھگڑوں اور مایوسی کی بنا پر خود کشی کی۔
کمیٹی کا کہنا ہےکہ ملک بھر میں دو ہزار ایک سو عورتوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور تین ہزار ایک سو بچوں کو جنسی طور پر بدفعلی یا ہراساں کرنے کے واقعات پیش آئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کی ستاسی جیلوں میں نوے ہزار قیدی ہیں جو ان کی گنجائش سے بہت زیادہ ہیں۔
وکلا کمیٹی کے مطابق ملک بھر میں دو سو سے زیادہ لوگ گمشدہ ہیں جنہیں ریاستی اداروں نے اغوا کیا۔ان لوگوں میں مذہبی تنظیموں کے ارکان اور بلوچ افراد شامل ہیں۔
دو ہزار ایک سو جنسی زیادتیادتیاں |
کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق اس سال ملک میں پندرہ ہزار لوگ غیر قانونی طور پر داخل ہوئے اور انسانی اسمگلنگ کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔
وکلا کمیٹی کے مطابق اس سال ستمبر تک اکیس صحافیوں کے ساتھ برا سلوک کیا گیا۔