Sunday, 22 October, 2006, 14:21 GMT 19:21 PST
صدر پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ ان کی کتاب کے اردو ورژن ’سب سے پہلے پاکستان‘ کی تمام تر آمدنی پرویز مشرف ٹرسٹ میں جائے گی اور اس پیسے سے غریب عوام کی مدد کی جائے گی۔
اسلام آباد میں اپنی انگریزی میں لکھی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ کے اردو ورژن کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کتاب کا ترجمہ ان کے بہنوئی نے کیا ہے اور اردو میں اس کا نام ’سب سے پہلے پاکستان‘ رکھا گیا ہے۔
دنیا بھر میں صدر مشرف کی انگریزی میں لکھی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ کی ستر ہزار سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔
کارگل کے حوالے سے صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے بذات خود نواز دور میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کو اس بارے میں دو گھنٹے کی بریفنگ دی تھی اور حکومت کو کارگل سے متعلق منصوبے کی تمام تفصیلات سے آگاہ کیا تھا اور یہ یقین دہانی بھی کروائی تھی کہ اس معاملے میں عسکری پہلو سے حکومت کو کسی طور بھی مایوسی یا ناکامی نہیں ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہیں اس بارے میں علم نہیں تھا وہ باکل غلط کہتے ہیں کیونکہ اس منصوبے کی تمام تفصیلات کا عمل خفیہ اور سکیورٹی کے اداروں سمیت تمام متعلقہ اداروں کو تھا خود چوہدری شجاعت حسین بھی اس بات کو جانتے تھے۔
صدر مشرف کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا یہ کہنا کہ کارگل کے معاملے میں ان کا کوئی حصہ نہیں تھا، باکل غلط بات ہے اس بارے میں تمام دستاویزی ثبوت موجود ہیں اور وہ ساری دنیا کو بتا سکتے ہیں کہ یہ فیصلہ سیاسی حکومت کا تھا۔
![]() | |
| صدر کی کتاب کی اب تک ستر ہزار کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں |
اس خدشے پر کہ کہیں پاکستان کے جوہری راز انتہا پسندوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں تو صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا جوہری پرگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے۔
عراق سے اتحادی فوج کے انخلاء پر ایک برطانوی کمانڈر کے بیان پر صدر مشرف کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت عراق سے امریکی فوج چلی جائے گی تو اس سے اس نہ صرف عراق بلکہ ساری دنیا پر ایک منفی تاثر پڑے گا اور اس وقت امریکی اور برطانوی فوج کو علاقے سے جانا نہیں چاہیے۔