Saturday, 21 October, 2006, 17:16 GMT 22:16 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
بلوچستان کے شہرگوادر میں ججوں، وزیروں، مشیروں اور اراکین اسمبلی کو الاٹ کردہ پلاٹ منسوخ کیے جانے کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا بلوچ قومپرست رہنماوں نے خیر مقدم کیا ہے۔
بلوچ رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ ججوں اور سیاستدانوں سمیت جرنیلوں اور فوجی افسران کے پلاٹ بھی منسوخ کیے جائیں۔
نواب اکبر بگٹی کے قتل کے بعد قومی اسمبلی کی رکنیت سے احتجاجی طور پر مستعفی ہونے والے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سرکردہ رہنما عبدالرؤف مینگل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ غریب بلوچوں کے لیے امید کی ایک کرن تو ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ عدالت اعظمیٰ کس حد تک انصاف مہیا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گوادر میں لوگوں کی جدی پشتی زمینیں ہیں وہ صوبائی حکومت نے زبردستی اپنے کھاتے میں منتقل کی ہے اور اس کے خلاف لوگ عدالتوں کے دھکے کھا رہے ہیں۔
عبدالرؤف مینگل نے کہا کہ حقیقی انصاف اس وقت ہوگا جب عدالت متعلقہ زمینیں اصل کھاتہ داروں کو منتقل کردے۔
نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر اسحاق نے بھی عدالت کے فیصلے کو سراہا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں گوادر کی ہزاروں ایکڑ زمین حکومت اور دیگر اداروں نے کبھی قومی مفاد تو کبھی سیکورٹی کا بہانہ بنا کر حاصل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت، سول اور فوجی افسر شاہی نے پلاٹوں کی بندر بانٹ کی اور مفت میں اپنے آپ کو پلاٹ الاٹ کرائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ معاملہ صرف گوادر شہر نہیں بلکہ پورے ضلعے میں ساحل سمندر کے علاقے میں جو بھی الاٹمنٹ کی ہے اور وہ پوری منسوخ ہونی چاہیے۔
جمہوری وطن پارٹی نے بھی عدالت کے فیصلے کو روشنی کی کرن قرار دیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ہونے والی تمام الاٹمنٹ منسوخ کی جائے اور مقامی لوگ جن کا گزر بسر مچھلی پر ہے انہیں ساحلی علاقوں سے بے دخل نہ کیا جائے۔