Friday, 20 October, 2006, 14:28 GMT 19:28 PST
وجاہت مسعود
لندن
پاکستان کے دو سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور بےنظیر بھٹو کے درمیان جمعرات کے روز بالآخر وہ ملاقات ہوگئی جس کا چرچا کئی ہفتوں سے جاری تھا۔
توقع کے مطابق اس ملاقات سے کوئی ٹھوس نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔ اگرچہ ملاقات کے اختتام پر ہونے والی گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے کسی اختلاف کا عندیہ نہیں دیا تاہم بیانات کے بین اسطور گرم جوشی کی بجائے رسمی اظہار کا رنگ نمایاں رہا۔
اس ناکامی کا تعلق دونوں رہنماؤں کی صلاحیت یا نیت سے نہیں کیونکہ پاکستان میں سیاست اور اقتدار کے مہرے اسی طرح سجائے جاتے ہیں کہ آئینی طریقہ کار اور سیاسی عمل کے تسلسل کے بجائے انہونی، سازش اور بے یقینی کی فضا طاری رہتی ہے۔
بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی یہ ملاقات 13 مئی کے بعد سے پہلا بالمشافہ رابطہ ہے جب دونوں رہنماؤں نے ’میثاقِ جمہوریت‘ پر دستخط کیے تھے۔
’میثاقِ جمہوریت‘ میں بیان کردہ اُصولی موقف خاصا خوشنما تھا لیکن اس معاہدے کی نازک پتیوں پر گزشتہ پانچ مہینے میں کافی اوس پڑی ہے۔ اس دوران بے نظیر بھٹو اور حکومت کے درمیان پس پردہ رابطوں کی خبر نکلی جس کی تصدیق یہاں تک پہنچی کہ بے نظیر بھٹو اور پرویز مشرف نے بھی محتاط لفظوں میں اس کا اقرار کیا۔
مذہبی مدارس کو قواعد و ضوابط کے دائرے میں لانے سے لے کر حقوقِ نسواں بل تک صدر مشرف کی کوششوں کے تناظر میں مسلم لیگ (ق) کی قیادت نے ہر ممکن سطح پر انہی عناصر کا ساتھ دیا ہے جو صدر مشرف کے ایجنڈے کے کھلے مخالف ہیں۔
اسی طرح اے آر ڈی میں پیپلز پارٹی کی حلیف ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) اپنے تاریخی پس منظر اور نواز شریف اپنی افتاد طبع کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے نقطہ نظر سے زیادہ اتفاق نہیں رکھتے۔ اس سے سیاسی بساط پر دائیں بازو کے عناصر کو دونوں فریقوں سے تائید مل جاتی ہے۔
حکومتی پارٹی میں شجاعت حسین اور اعجازالحق موجود ہیں تو اے آر ڈی میں راجہ ظفر الحق اور شہباز شریف پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ اس صورت حال میں پرویز مشرف اور حزب اختلاف دونوں مخمصے کا شکار ہیں۔
![]() | |
| نواز شریف کو کچھ سوالات کے جواب چاہیے۔ |
1979 میں جنرل ضیاالحق نے افغانستان میں مغرب کی پشت پناہی سے سوویت یونین کی مخالفت کا بیڑا اٹھایا تو اس کے لیے انہوں نے داخلی سطح پر سیاسی صف بندی، ذرائع ابلاغ، نظام تعلیم اور امتیازی قوانین کے ذریعے جو اجتماعی نمونہ تیار کیا اس میں ضیا الحق کے داخلی حلیفوں اور بین الاقوامی حامیوں میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی تھی۔ یہ سہولت پرویز مشرف کو حاصل نہیں۔
ضیاءالحق کا متعارف کردہ داخلی قوتوں کا توازن نہ صرف یہ کہ ختم نہیں ہوا بلکہ ربع صدی میں گوناگوں مفادات کے باہم تعامل سے نہایت طاقت ور ہوچکا ہے۔ پرویز مشرف بین الاقوامی منظر پر جو سمت اختیار کرنا چاہتے ہیں، داخلی محاذ پر اس کی زبردست مزاحمت موجود ہے۔
مسلم لیگ (نواز) کے علم میں ہے کہ پرویز مشرف کی اقتدار میں موجودگی کے دوران نواز شریف کے لیے سیاست کے مرکزی دھارے میں واپسی کا امکان موجود نہیں چنانچہ برطانیہ آنے کے بعد سے نوازشریف کا رویہ زیادہ دو ٹوک ہے جبکہ بے نظیر بھٹو ڈھل مل یقینی کا شکار نظر آتی ہیں۔
حکومت کے اہم ترین مخالف اتحاد میں یکسوئی کا یہ فقدان حکومت کے لیے نہایت اطمینان بخش ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ حکومت اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 2007 کے نصف اول میں کسی وقت انتخابات کا اعلان کرکے کوشش کرے گی کہ پیپلز پارٹی اور دائیں بازو کی جماعتوں کو اس طرح کے ملے جلے نتائج دیے جائیں جس سے سیاستی جماعتیں پاکستان کے حقیقی حکمران طبقے کو چیلنج نہ کرسکیں۔
اس سے صدر مشرف کے لیے آئندہ پانچ برس کے لیے صدر منتخب ہونے اور فوجی سربراہ کا عہدہ برقرار رکھنے میں سہولت پیدا ہو جائے گی۔
نواز شریف اور بے نظیر ملاقات میں جمہوری قوتوں کے لیے خوش آئند نتائج برآمد نہیں ہوسکے۔ اگرچہ پاکستان کے حالات میں کسی بھی وقت ناقابلِ پیش گوئی واقعات رونما ہونے کا امکان باقی رہتا ہے لیکن فی الحال حکومت کے لیے عید کی خوشیاں گہنانے کا کوئی امکان نہیں۔
(وجاہت مسعود انسانی حقوق، صحافت اور تعلیم کے شعبوں میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ ادبی اور سیاسی موضوعات پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اور آج کل برطانیہ میں بین الاقوامی قانون کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔)