Wednesday, 18 October, 2006, 18:05 GMT 23:05 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی ’پیمرا‘ نے بدھ کے روز سرائیکی زبان میں ایک نجی ٹی وی چینل ’روہی‘ شروع کرنے کے لیے لائسنس جاری کردیا ہے۔
ملک میں علاقائی زبانوں میں سندھی، پنجابی اور پشتو کے بعد سرائیکی چوتھی زبان ہے جس میں کسی نجی ٹی وی چینل کا لائسنس جاری کیا گیا ہے۔
پاکستان کی بڑی علاقائی زبانوں میں بلوچی واحد زبان ہے جس میں تاحال ملک سے کسی نجی ٹی وی چینل کی نشریات شروع نہیں ہوسکیں۔
تاہم بعض بلوچ قومپرستوں نے جب ’بلوچ وائس‘ کے نام سے نجی ٹی وی چینل شروع کرنا چاہا اور لائسنس لینے کی خاطر منیر مینگل نامی شخص پاکستان پہنچے تو انہیں مبینہ طور پر انٹیلیجنس ایجنسیوں نے حراست میں لے لیا اور تاحال وہ لاپتہ ہیں۔
’روہی‘ کے نام سے پاکستان سے شروع ہونے والا یہ سرائیکی زبان کا تاحال یہ واحد نجی ٹی وی چینل ہے جس کے لیے پیمرا نے لائسنس جاری کیا ہے۔ تاہم پنجابی زبان کا ایک ٹی وی چینل پاکستان سے لائسنس لیے بنا بیرون ملک سے ’کوک‘ نامی ایک سرائیکی زبان کا چینل چلا رہا ہے۔
پاکستان کی پندرہ کروڑ آبادی میں سے نصف آبادی والے صوبہ پنجاب کی آدھے کے قریب آبادی سرائیکی بولتی اور سمجھتی ہے۔ جبکہ صوبہ سندھ میں آباد بعض بلوچ قبائل کی مادری زبان بھی سرائیکی ہے۔
روہی ٹی وی کے ایک سینیئر عہدیدار عامر متین نے بتایا کہ وہ دو ماہ کے اندر اپنے سرائیکی ٹی وی چینل کی نشریات کا آغاز کردیں گے۔
واضح رہے کہ لفظ ’روہی‘ کا مطلب ریگستان ہے اور سرائیکی شاعری میں اُسے ایک اہم حیثیت حاصل ہے۔ بعض سرائیکی دانشوروں کا کہنا ہے کہ روہی کا کلچر ہندوستان کے علاقے راجستھان اور سندھ کے تھل سے خاصی مماثلت رکھتا ہے۔