Wednesday, 18 October, 2006, 14:19 GMT 19:19 PST
عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
دس لاکھ موٹرگاڑیوں کے شہر لاہور میں ٹریفک کے ہجوم کو کم کرنے کے لیے پنجاب کی صوبائی حکومت شہر کے اندر تیز رفتار ریل سروس چلانے کے منصوبے پر کام کررہی ہے۔
صوبائی حکام کے مطابق اس تیز رفتار ریل نظام کی فیزیبلٹی (ابتدائی) رپورٹ بمعہ انجینئیرنگ ڈیزائن مکمل ہوگئی ہے۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق اس منصوبے پر ڈیڑھ سو ارب روپے کی لاگت آئے گی، جس کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے بات چیت کی جارہی ہے۔
لاہور میں ماس ٹرانزٹ ٹرین چلانے کے لیے اس سال جولائی میں ایک بین الاقوامی مشاورتی کمپنی نے فیزیبلٹی رپورٹ (بعنوان لاہور ریپڈ ماس ٹرانزٹ سسٹم) مکمل کرکے صوبائی حکومت کو دی تھی، جس کے بارے وزیراعظم شوکت عزیز کو بھی بریفنگ دی گئی۔
فیزیبلٹی رپورٹ میں شہر کے لیے زیر زمین اور بالائے زمین تیز رفتار ریل سروس چلانے کے لیے چار لائنیں تجویز کی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق صوبائی حکومت ابتدائی طور پر شاہدرہ سے فیروز پور روڈ پر کوٹ لکھپت پل تک اور ٹھوکر نیاز بیگ سے ہر بنس پورہ تک دو لائنیں بچھانا چاہتی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ماس ٹرانزٹ نظام کے وجود میں آنے سے لاہور کی سڑکوں سے تین ہزا بسیں اور ویگنیں ختم ہوجائیں گی، جس سے شہر میں شور اور ہوا کی آلودگی کم ہوگی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لاہور تقریباً تریسٹھ لاکھ آبادی کا شہر ہے، جس کی سڑکوں پر دس لاکھ گاڑیاں بھاگتی ہیں۔
لاہور کی ضلعی حکومت کے مطابق شہر میں پندرہ ہزار تعلیمی ادارے ہیں، جن میں سے پانچ سو مہنگے اسکول ہیں جہاں بچے کاروں میں آتے جاتے ہیں۔ لاہور ٹریفک پولیس کے سربراہ وسیم احمد خان کے مطابق روزانہ اسی ہزار کاریں بچوں کو سکول چھوڑنے کے لیے آتی جاتی ہیں اور ان میں دو تہائی سے زائد کاروں میں صرف ایک بچہ سفر کرتا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ بڑے شہروں میں ٹرانسپورٹ نظام اپنی استعداد کی آخری حد تک پہنچ چکا ہے اور ٹریفک کے ہجوم کے باعث آمد و رفت سے ہونے والی تاخیر سے معیشت کو ’اربوں روپے‘ کا نقصان ہورہا ہے۔
وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ میں انیس سو پچانوے میں بنائی گئی نیشنل ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کو وزارت ریلوے کے ماتحت بحال کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔
ملک کے آٹھ بڑے شہروں میں کراچی (ایک کروڑ چالیس لاکھ آبادی)، حیدرآباد بشمول کوٹری (اٹھائیس لاکھ) ، ملتان (اکتیس لاکھ)، لاہور (تریسٹھ لاکھ)، جڑواں شہر راولپنڈی اور اسلام آباد (چالیس لاکھ)، فیصل آباد (چون لاکھ)، پشاور (بائیس لاکھ) اور کوئٹہ بشمول نواحی علاقے (دس لاکھ آبادی) شامل ہیں۔
وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ شہروں کی آبادی خطرناک حد تک تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے جس سے آمد و رفت کے نظام پر منفی اثر پڑ رہا ہے اور اس مسئلے کا مناسب حل ماس ٹرانزٹ نظام ہی ہے۔