Sunday, 15 October, 2006, 16:53 GMT 21:53 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان کے حوالے سے وزیراعظم شوکت عزیز کے پیکج پر حزب اختلاف کے قائدین نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں سے بیشتر صوبے کا حق ہے اور جو زیادہ دیا ہے، وہ بلوچستان کے لوگوں کے لیئے نہیں ہے۔
صوبائی حکومت میں شامل وزراء بھی مالی حوالے سے مذید اقدامات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ نے آج یہاں ایک اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ وزیر اعظم شوکت عزیز کے اعلانات صرف الفاظ کی ہیرا پھیری ہے اور اس کا مقصد نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد اٹھنے والی تحریک کو کمزور کرنا ہے۔
انھوں نے کہا ہے کہ جس مالی معاونت کا اعلان وزیر اعظم نے کیا ہے اس میں گیس رائلٹی اور گیس ڈیویلپمنٹ سرچارج صوبے کا حق ہے۔ جبکہ سوئی میں کالونی، گوادر میں انٹرنیشنل ہوائی اڈہ اور چھاؤنیاں، بلوچوں کے لیے نہیں ہیں۔
وزیر اعظم نے جمعہ کے روز کوئٹہ میں اعلان کیا تھا کہ وہ بلوچستان کے لیے ساڑھے انیس ارب روپے کے پیکج کا اعلان کر رہے ہیں جس میں قومی مالیاتی کمیشن اور گیس ڈویلپمنٹ سرچارج سمیت دیگر منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔
صوبائی وزیر خزانہ سید احسان شاہ نے اس اعلان کے ردعمل میں بی بی سی کو بتایا کہ وزیر اعظم کے پیکج سے کچھ ریلیف تو ملے گا، لیکن یہ، صوبے کو درپیش مشکلات پر قابو پانے کا مستقل حل نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس میں کچھ نئے اعلانات کیئے گئے ہیں اور کچھ پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔ ان سے جب نئے اعلانات کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے اعلان کیا ہے کہ گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کے حوالے سے وفاقی حکومت کے ذمے لگ بھگ دو ارب روپے واجب الادا رقم واپس کی ادا کی جا رہی ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں بلوچستان کے واجب الاد رقم اور تقریباً ڈیڑھ ارب روپے کے قرضے مؤخر کرنے کے علاوہ، نیا کچھ نہیں ہے۔
وفاقی حکومت نے بلوچستان کو اس کے وسائل کے مطابق ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا کہا ہے جبکہ بلوچستان سے پیدا ہونے والے معدنی وسائل کے منصوبے وفاق کے پاس ہی ہیں۔