http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 14 October, 2006, 14:17 GMT 19:17 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ڈینگو بخار سے اٹھارہ ہلاک

کراچی میں ڈینگو بخار سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد اٹھارہ ہوگئی ہے، جبکہ ڈیڑھ سو سے زائد مریض ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

ڈینگو سے بچاؤ کی مہم

شہر کے ایک نجی ہسپتال میں جمعہ کو ڈینگو وائرس میں مبتلا ایک اور مریض ہلاک ہوگیا جبکہ ہیمرجک فیور میں مبتلا مریضوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ صوبائی حکومت نے اس کے لیئے سرویلنس کمیٹی بھی بنائی ہے، کمیٹی کے سربراہ کیپٹن ماجد کے مطابق جمع کے روز ضیاالدین ہسپتال میں ایک اٹھائیس سالہ مریض کو لایا گیا تھا جو جانبر نہ ہوسکا۔

انہوں نے بتایا اس وقت شہر کی سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں ایک سو پچپن مریض زیر علاج ہیں جن میں اکتالیس کو سنیچر کے دن داخل کیا گیا ہے۔
سیکریٹری صحت پروفیسر نوشاد شیخ نے بتایا کہ کراچی میں گزشتہ چار ماہ میں اٹھارہ مریض ڈینگو وائرس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق اندرون سندھ سے اس بخار کی علامات ظاہر ہوئی ہیں مگر کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق ڈینگو وائرس کا شکار مریض کے خون سے سرخ خلیے ختم ہوجاتے ہیں، اس لیئے انہیں سرخ خلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ شہر میں خون میں سے سرخ خلیے الگ کرنے کی مشینوں کی کمی اور فوری طور پر خون کی دستیابی کے مسائل نے جنم لیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ چار بوتل خون میں سے سرخ خلیوں کی ایک بوتل بنتی ہے، اس لیئے زیادہ خون کی ضرورت ہوتی ہے۔

خون کی کمی
 ڈاکٹروں کے مطابق ڈینگو وائرس کا شکار مریض کے خون سے سرخ خلیے ختم ہوجاتے ہیں، اس لیئے انہیں سرخ خلیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ شہر میں خون میں سے سرخ خلیے الگ کرنے کی مشینوں کی کمی اور فوری طور پر خون کی دستیابی کے مسائل نے جنم لیا ہے۔
 

پروفیسر نوشاد نے بتایا کہ مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے پلیٹ لیٹس کی کمی ہوئی ہے مگر محکمہ صحت کے پاس ابھی کچھ تعداد میں یہ موجود ہیں مزید باہر سے منگوائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈینگی وائرس کے ایک مریض کو پلیٹ لیٹس ( سرخ خلیوں) کا ایک میگا یونٹ درکار ہوتا ہے۔

شہر میں ڈینگو وائرس کے کیس بڑھنے کے بعد مقامی ہسپتالوں میں اس کے ٹیسٹ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس سے قبل یہ ٹیسٹ صرف نیشنل انسٹیٹوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد اور آغا خان کراچی میں کیے جاتے تھے۔

سیکریٹری صحت نے بتایا کہ ان ٹیسٹوں کی فیس دو ہزار سے کم کرکے چھ سو روپے کردی گئی ہے، جس میں آدھی رقم حکومت کی جانب سے ادا کی جارہی ہے۔

دوسری جانب شہری حکومت نے مچھر مارنے کے لیئے سپرے کا سلسلہ شروع کردیا ہے جبکہ عوام میں آگاہی کے لیئے اخبارات میں اشتہارات دیئے جارہے ہیں کہ گھروں میں سورج کی روشنی میں مچھر مار دوا کا استعمال کیا جائے۔