Wednesday, 11 October, 2006, 17:06 GMT 22:06 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پنجاب کی یونیورسٹی میں موسیقی کی پوسٹ گریجویٹ کلاسیں شروع کرنے کے خلاف اسلامی جمعیت طلبہ کے احتجاج میں شدت آتی چلی جارہے اور بدھ کو لاہور میں طلبہ نے دو مقامات پر ٹریفک بلاک کرکے احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کی پولیس کی بھاری نفری نے ٹریفک بحال کرائی۔
پنجاب یونیورسٹی میں دو تین روز پہلے ایم اے میوزیکالوجی کی کلاسوں کا اجراء ہوا ہے۔ یہ کلاسیں پنجاب یونیورسٹی کے کیمپس کی بجائے الحمرا حال میں پڑھائی جارہی ہیں۔
جماعت اسلامی کے سٹوڈنٹس ونگ، اسلامی جمعیت طلبہ کا جس کا پنجاب یونیورسٹی میں خاصا اثر رسوخ ہے موقف ہے کہ 'موسیقی کی کلاسوں کا اجراء غیر اسلامی اور نظریہ پاکستان کےخلاف ہے۔‘
پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ نے تقریبا ایک ڈیڑھ ماہ قبل موسیقی کی پوسٹ گریجویٹ کلاسوں کے اجراء کا اعلان کیا تھا جس کے ساتھ ہی پنجاب یونیورسٹی میں اس طلبہ تنظیم کے کارکنوں نےاحتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا تھا اور ہر دوسرے تیسرے روز کسی نہ کسی شکل میں احتجاج کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
ادھر یونیورسٹی انتظامیہ نے ہر حال میں میوزک کی کلاسوں کو جاری رکھنے کا اعلان کیاہے اخبار کے اشتہارات کے بعد طلبہ کو ٹیسٹ انٹرویو کے بعد میوزیکالوجی کی کلاس میں داخلے دیے گئے اور نواکتوبر سے کلاسیں شروع کی جاچکی ہیں۔
اسلامی جمعیت طلبہ کے چند کارکنوں نے الحمرا کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا جس پر یونیورسٹی انتظامیہ نے مظاہرے میں حصہ لینے والے طلبہ کے خلاف انضباطی کارروائی کرتے ہوئے تین طلبہ کو یونیورسٹی سے خارج کردیا۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کے احتجاج کو بلا جواز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ موسیقی کی کلاسوں کے اجراء کو جان بوجھ کر غلط رنگ دیا جارہا ہے۔
پنجاب یونیورسٹی میں موسیقی کی کلاسوں کی مخالفت کرنے والی اسلامی جمعیت طلبہ مذہب کے بارےمیں نسبتا سخت موقف رکھتی ہے۔ اس تنظیم کے عہدیدار اور کارکن عام طور پر یونیورسٹی کے پارکوں میں لڑکا لڑکی کے اکیلے بیٹھنے پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’موسیقی اور پرفارمنگ آرٹ کے تحت یونیورسٹی میں غیراسلامی اور مغربی تہذیب کو فروغ دیا جارہا ہے جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔‘
ایک نجی ادارے لاہور گرائمر سکول کی وائس پرنسپل گل رخ کا کہنا ہے موسیقی سمیت کوئی بھی پرفارمنگ آرٹ انسان کے اندر توازن پیدا کرتا ہے اسی لیے ان کے سکول میں ابتدائی کلاس سے ہی بچوں کو میوزک پڑھایا جاتا ہے۔
میوزک کی ایک استاد شاہدہ حسین کا کہنا ہے کہ ’موسیقی کوئی بری چیز نہیں ہے یہ انسان کو اچھا بناتا ہے اور اس کی شخصیت میں نکھار پیدا ہوتی ہے۔‘
یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر نعیم احمد خان نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ یونیورسٹی کے تعلیمی سیشن معمول کے مطابق جاری رہیں گے اور کسی کو رکاوٹ ڈالنےنہیں دی جائے گی۔