Wednesday, 11 October, 2006, 09:42 GMT 14:42 PST
عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
پنجاب حکومت دو ماہ سے نظر بند مذہبی رہنما حافظ محمد سعید کی نظر بندی کا حکم نامہ آج بھی لاہور ہائی کورٹ میں پیش نہیں کرسکی۔
جولائی میں بھارتی حکومت نے حافظ سعید کی کالعدم تنظیم لشکر طیبہ کو ساحلی شہر ممبئی میں ٹرین بم دھماکوں میں درجنوں ہلاکتوں میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تھا اور ان کی نظر بندی کو پاکستان کی طرف سے مثبت اشارہ قرار دیا تھا۔
جماعت الدعوۃ اور اس سے پہلے ممنوعہ شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے امیر حافظ سعید کو دس اگست کو لاہور میں نظر بند کیا گیا تھا لیکن اٹھائیس اگست کو لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر ان کی رہائی کے چند گھنٹوں بعد دوبارہ نظر بند کردیا گیا تھا۔
حافظ سعید کے وکیل نذیر غازی نے عدالت عالیہ لاہور کے جج اختر شبیر کو بتایا کہ آج تک حافظ سعید کو نظر بندی کا تحریری حکم نامہ نہیں دیا گیا۔
بدھ (گیارہ اکتوبر) کو پنجاب حکومت کے وکیل نے حافظ سعید کی نظر بندی کا حکم نامہ پیش کرنے کے لیے عدالت عالیہ سے پانچ دن کی مہلت طلب کی اور کہا کہ حافظ سعید ریسٹ ہاؤس میں خیریت سے ہیں۔
سماعت کے موقع پر حافظ سعید کو عدالت عالیہ میں پیش نہیں کیا گیا۔
عدالت عالیہ نے سرکاری وکیل کو ہدایت کی کہ وہ حافظ سعید کی ان کے وکیل نذیر غازی سے ملاقات کا انتظام کریں۔
حافظ سعید اپنی متعدد تقریروں اور اخباری بیانات میں کشمیر کے معاملہ پر بھارت سے مذاکرات کی بجائے جہاد کو اس مسئلہ کا حل قرار دیتے آئے ہیں۔
اگلے روز بھارتی حکومت کے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نرائن نے ایک ٹی وی انٹرویو میں حافظ سعید کی ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ اور پاکستانی فوج کے انٹیلی جنش ادارے آئی ایس آئی کےدرمیان روابط کا الزام عائد کیا تھا اور آئی ایس آئی کو اس تنظیم کا روحانی گرو قرار دیا تھا۔