Tuesday, 10 October, 2006, 18:57 GMT 23:57 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں آٹھ دن کے دوران 23 افراد کی ہلاکت کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مداخلت کے بعد فوری جنگ بندی ہو گئی ہے اور فریقین کو الگ کردیا گیا ہے۔
گزشتہ روز قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے مزار کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اب حالات معمول پر آنے شروع ہوئے ہیں جبکہ دوسری طرف قبائلی جرگے نے علاقے میں مستقل امن کے قیام اور فریقین کے درمیان فوری جنگ بندی کرانے کےلیے اپنی کوششیں تیز کردی ہیں۔
لوئر اورکزئی ایجنسی کے صدر مقام کلایہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کرم ایجنسی کے سابق ممبران قومی اسمبلی و سینیٹ اور دیگر قبائلی مشیران پر مشتمل جرگہ نے منگل کو کلایہ میں شیعہ اور سنی رہنماؤں سے الگ الگ
شدید جانی نقصان کا خدشہ |
اورکزئی ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ شیر عالم محسود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ علاقے میں سکیورٹی فورسز کو مکمل کنٹرول حاصل ہے اور ایک ہفتے سے جاری بھاری ہتھیاروں کی فائرنگ کا سلسلہ بند ہوگیا ہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ آئندہ چند روز تک حالات مکمل طور پر معمول پر آ جائیں گے۔
انہوں نے پیر اور اتوار کے روز لیڑی کے مقام پر فریقین کے مابین ہونے والی شدید لڑائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بر وقت مداخلت نہ کرتے تو علاقے میں بڑا جانی و مالی نقصان ہونے کا خطرہ تھا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پیر کی صبح ہی سے ایک فرقے کے درجنوں مسلح افراد نے قریب سے میاں انور شاہ مزار میں محصور دوسرے فریق کے حامیوں پر بھاری ہتھیاروں سے حملے شروع کر دیے جس کی وجہ سے محصور افراد کمزو پڑ گئے اور قریب تھا کہ مزار مزاحمت کاروں کے ہاتھوں سے نکل جاتا تاہم اس دوران ملیشا فورسز نے مداخلت کرکے مزار کا کنٹرول خود اپنے ہاتھوں میں لیا جس کےبعد دونوں فریقوں کو وہاں سے ہٹا دیاگیا۔
28 ہلاک یا 50 ہلاک |
سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جھڑپوں میں اب تک 28 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ غیر سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد پچاس کے قریب ہو سکتی ہے۔
ادھر جنگ زدہ علاقے میں زندگی آہستہ آہستہ معمول پر آنی شروع ہوگئی ہے ۔ مقامی لوگوں نے ایک ہفتے کے مسلسل لڑائی کے بعد پہلی بارگھروں سے نکل کر قریبی بازاروں میں خریداری کی۔ تاہم دوسری طرف علاقے میں تمام تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں۔
مبصرین کا خیال ہے کہ اگر پولیٹکل حکام لڑائی شروع ہوتے ہی برقت کارروائی کرتے تو اتنی ہلاکتیں نہ ہوتیں۔