Friday, 06 October, 2006, 14:32 GMT 19:32 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گڑھی حبیب اللہ
صوبہ سرحد میں گڑھی حبیب اللہ کے مقام پر گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول پر گزشتہ برس آٹھ اکتوبر کے قیامت خیز زلزلے کے اثرات سے اس سکول میں زیر تعلیم طلبہ اور اساتذہ نکلنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن انہیں وقت کے ساتھ نئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اُس دن اِس سکول کی ساٹھ کے قریب طلبہ اور دو استانیاں قدرتی آفت کی نظر ہوئیں۔ اس دن کی یادیں تو شاید ان طلبہ کے ذہنوں میں تمام عمر رہیں لیکن مکمل طور پر منہدم ہونے والا یہ دو منزلہ سکول اس اعتبار سے خوش قسمت ہے کہ اس کو نئی عمارت بہت جلد مل گئی۔
وفاقی وزیر برائے صعنت و پیداوار جہانگیر ترین کی رحیم یار خان میں قائم نجی جمال دین شوگر ملز نے اس سکول کی تعمیر نو کا بیڑا اٹھایا اور چند ماہ بعد اس سال جولائی میں اس کا افتتاح بھی ایک سادہ سی تقریب میں کر دیا۔
الومینیم کی چادروں سے تیار کی گئی یہ نئی عمارت پرانی عمارت کے ملبے سے وجود میں آنے والے ایک ٹیلے پر بنائی گئی ہے۔ پرانی عمارت دو منزلہ تھی لہذا زیادہ کمرے تھے۔ نئی عمارت زلزلہ پروف ہے لیکن کمرے کم ہیں۔
کلاسوں کی کمی کی ایک اور وجہ ماضی سے زیادہ طالبات کا داخلہ بھی ہے۔ اردگرد کے تباہ شدہ سکولوں کی طالبات نے بھی ادھر کا رخ کر لیا ہے۔ ایسے میں آج کل تین کلاسیں آج بھی خیموں میں منعقد کی جا رہی ہیں۔
سکول کی وائس پرنسپل مسز وحید نے بتایا کہ طالبات کی تعداد اب ایک ہزار تک پہنچ گئی ہے جو کہ ماضی سے تین گنا زیادہ ہے۔ اگر حالات معمول کے مطابق ہوتے تو ہر کلاس میں چالیس سے پچاس تک طالبات ہوتیں لیکن آج کل ایک کمرے میں اسی اور بعض میں تو سو سے بھی زیادہ ہیں۔
![]() | |
نویں کلاس میں تعلیم جاری تھی۔ داخل ہوا تو دروازے پر ہی کمرے کے حبس اور گرمی کے ایک جھونکے نے جھنجوڑ دیا۔ اس چھوٹے سے کمرے میں اسی طالبات ایک دوسرے سے چپکی فرش پر بیٹھی تھیں۔ کمرے میں کھڑکیاں بھی نہ ہونے کے برابر جس کی وجہ سے گھٹن کا احساس ہوا۔ زیادہ لڑکیوں کے لیئے جگہ پیدا کرنے کی خاطر کرسیاں ہٹا کر انہیں فرش پر بیٹھا دیا گیا تھا۔
![]() | |
| جگہ کی تنگی کی وجہ سے بچیاں زمین پر بیٹھتی ہیں |
مسز وحید نے اس موقع پر مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کے دنوں میں تو سکول بند ہوتا ہے لہذا یہ اچھا ہے کیونکہ سردیوں میں یہ گرم ہوگا‘۔
باہر کھلے آسمان تلے تین بڑے خیموں میں دو کلاسیں ایک سو دس دس جبکہ ایک اسی طالبات کی ہے۔ اس میں پڑھ رہی چھٹی جماعت کی ایک طالبہ نے بتایا کہ انہیں گرمی بہت تنگ کرتی ہے۔
ایک ننھی سی طالبہ نے بتایا کہ وہ پڑھ لکھ کر استانی بننا چاہتی ہیں کیونکہ ’یہ ایک با عزت اچھا پیشہ ہے‘۔
وائس پرنسپل کا کہنا تھا کہ مختلف غیرسرکاری تنظیموں نے دورے کرکے ان کے مسائل حل کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن ابھی اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔
![]() | |
| سکول کی کوئی چار دیواری نہیں اور یہ سب کے لیئے کھلا ہے |
مسز وحید نے کہا کہ ان کے معاشرے میں لڑکیوں کے سکول کی چار دیواری ایک لازمی جز ہوتا تھا لیکن اب یہ سکول ایک اوپن تھیٹر بنا ہوا ہے۔ جس کا جدھر سے دل کرتا ہے داخل ہوجاتا ہے۔ ’اکثر لوگ تو براہ راست میرے کمرے تک آجاتے ہیں‘۔
میں اس سے قبل زلزلے کے چند روز بعد اور پھر درمیان میں اس سکول کا دورہ کرچکا تھا۔ دونوں مرتبہ سکول کے باہر کتابوں کی ایک چھوٹی سی دوکان کے مالک بابا گل صنوبر سے ملاقات ضرور ہوتی تھی۔ پچھلی مرتبہ دوکان بند تھی، لیکن آج کھلی اور سامان سے بھری پائی تو کیسے گل صنوبر بابا سے بات نہ کرتا۔
اس سکول میں ہونے والی ہلاکتوں کی ذمہ داری پچھلی ملاقات میں بابا جی نے ٹھیکیداروں پر ڈالی تھی اور ان کا مطالبہ تھا کہ پرانی عمارت تعمیر کرنے والوں کو سزا دی جائے۔ آج پوچھا اس بابت کچھ ہوا تو انہوں نے کہا نہیں۔
ایک اور دلچسپ بات باباجی نے بتائی کہ سکول بنا کر شوگر ملز مالکان نے نام تو بہت کما لیا لیکن چینی کی قیمت بھی بیس سے چالیس روپے کر دی ہے۔
’انہوں نے اپنے پیسے تو پورے کر لیے بلکہ زیادہ کما لیئے، مارے تو ہم گئے ہیں۔