Saturday, 07 October, 2006, 10:40 GMT 15:40 PST
آٹھ اکتوبر 2005 کو جنوبی ایشیا کے ممالک پاکستان، افغانستان اور انڈیا میں 7.6 کی شدت سے آنے والے زلزلے نے اسی ہزار سے زیادہ لوگوں کوہلاک اور لاکھوں کو بے گھر کر دیا۔ سب سے زیادہ نقصان پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے میں ہوا۔
اس زلزلے کا مرکز اسلام آباد سے اسی کلو میٹر کے فاصلے پر بتایا جاتا ہے مگر اس کا اثر افغانستان اور مغربی بنگلہ دیش تک دیکھا گیا۔
ستائیس اکتوبر تک ایک ہزار سے زیادہ زلزلے کے جھٹکے محسوس کیئے گئے۔ ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں اب تک کی قدرتی آفات میں سے یہ سب سے بڑی آفت ہے۔
سب سے زیادہ آفت زدہ علاقوں میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور شمال مغربی سرحد شامل ہے۔ اس زلزلے سے مالی و جانی دونوں طرح کے شدید نقصانات ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی برادری نے 5.4 ڈالر کی امداد کی جس کی سب سے زیادہ ضرورت ہمالیہ کی سردیوں کا سامنا کرنے والوں کو پڑی۔
امدادی سرگرمیاں
![]() | |
| کیمپوں میں رہنے والے دوسری سردی کی زد میں ہیں |
بالاکوٹ
سب سے زیادہ نقصان زدہ علاقوں میں بالاکوٹ بھی شامل ہے جسے زلزلے نے قریباً ختم ہی کر دیا ہے۔ یہ شہر زلزلوں کی زد میں ہے اور ابھی بھی خطرے سے باہر نہیں ہے اس لیئے حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بالاکوٹ کے چالیس ہزار شہریوں کو باکریال کے علاقے میں بسایا جائے گا۔
![]() | |
| شہر جو بالکل تباہ ہو گیا اور اب کہیں اور بسایا جائے گا |
ہاؤسنگ
زلزلے کے بعد سے تقریباً دس لاکھ کیمپ بے گھر خاندانوں کو مہیا کیئے گئے ہیں اور لاکھوں کو تارپولین اور پلاسٹک کی چادریں دی گئی ہیں تا کہ بارش اور برف باری سے بچا جا سکے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس کی ایجنسیوں نے چھہتر ہزار لوگوں کو عارضی کیمپوں سے نکال کر واپس پکے گھروں میں بھیجا ہے۔ پاکستانی حکومت نے چوالیس ملین ڈالر تین لاکھ سے زائد لوگوں میں تقسیم کئے ہیں تا کہ لوگ اپنے گھر تعمیر کر سکیں۔ کچھ لوگوں کو صرف بنیادی رہائشی ضروریات کے لیئے پیسے دیئے گئے ہیں۔
صحت
متاثرین کو تقریباً دو لاکھ ٹن خوراک مہیا کی گئی جس میں سے پونے آٹھ لاکھ لوگ وہ شامل ہیں جن تک پہنچنا ناممکن تھا۔ اس زلزلے سے انہتر ہزار سے زیادہ لوگ شدید زخمی ہوئے تھے اور قریباً دس ہزار بچے معذور ہو گئے۔
تعلیم
![]() | |
| زلزلے سے چھ ہزار سے زائد سکول تباہ ہو گئے تھے |
چار ہزار تین سو سے زیادہ سکول فوراً ہی کیمپوں میں شروع کر دیئے گئے جس میں تقریباً چار لاکھ بچوں کو داخلہ دیا گیا جس میں سے اڑتیس فیصد بچیاں ہیں۔ اور ان بچیوں میں وہ بھی شامل ہیں جو زلزلے سے پہلے سکول میں داخل نہیں تھیں۔