http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 05 October, 2006, 08:18 GMT 13:18 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پارلیمنٹ کے سامنے راکٹ ملے

پاکستان کی پارلیمان کے قریب جمعرات کی صبح دو راکٹ ملے ہیں جنہیں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بم ڈسپوزل سکواڈ نے ناکارہ بنادیا ہے۔

راکٹوں کی ساخت وغیرہ کے بارے میں فی الوقت پولیس حکام کچھ بھی بتانے سے گریزاں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں اعلیٰ افسران کا اجلاس ہورہا ہے جس کے بعد بیان جاری کیا جائے گا۔

ایوب پارک دھماکہ: عینی شاہدین
صدر ہاؤس کے قریب دھماکہ

تھانہ سیکریٹریٹ کے ڈیوٹی افسر تجمل کے مطابق پولیس کو پارلیمان کی عمارت کے سامنے گھاس پر دو راکٹ ملے جو ناکارہ بنادیے گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق جہاں سے راکٹ برآمد ہوئے ہیں اس کے قریب کام کرنے والے بعض مزدوروں کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ علاقے میں سیکورٹی سخت کردی گئی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ رات راولپنڈی کے ایوب نیشنل پارک میں ایک زوردار دھماکہ ہوا تھا۔ جس بارے میں اطلاعات ہیں کہ وہ دھماکہ راکٹ گرنے سے ہوا تھا۔

صدر مشرف کی رہائش گاہ آرمی ہاؤس کے قریب اس پراسرار دھماکے کے محض بارہ گھنٹوں کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے انتہائی حساس علاقے جہاں پارلیمان اور ایوان صدر واقع ہیں وہاں سے دو راکٹ برآمد ہوئے ہیں۔

حکام اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا ان تخریبی واقعات کا مقصد ایک بار پھر صدر جنرل پرویز مشرف کو نشانہ بنانے کی کوئی سازش تو نہیں۔یاد رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف پر سن دو ہزار تین میں یکے بعد دیگرے دو خود کش مگر ناکام بم حملے ہوئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پارلیمان کے سامنے یہ دونوں راکٹ گھاس پر رکھے ہوئے تھے جس کے ایک طرف ایوانِ صدر اور دوسری جانب وزیراعظم ہاؤس اور سرکاری عمارات ہیں۔ جبکہ ارکان پارلیمان کی رہائش گاہ، سپریم کورٹ اور سفارتی علاقہ بھی اس کے قریب واقع ہیں۔