Thursday, 05 October, 2006, 14:19 GMT 19:19 PST
محمد اشتیاق
اسلام آباد
ایوب پارک میں بدھ کی شام ہونے والے دھماکوں کے بارے میں ایک عینی شاہد ارشد ملک کہتے ہیں کہ وہ پارک کے قریب بیکری کے پاس کھڑے تھے کہ دو دھماکوں کی آواز آئی اور پھر بہت ہلچل مچ گئی تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کچھ اوپر سے گرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
موقع پر موجود ایک اور شخص محمد زاہد بتاتے ہیں کہ جب دھماکہ ہوا تو وہ اپنی دُکان میں کپڑے سی رہے تھے۔ وہ دوڑ کر باہر نکلے تو اور لوگ بھی باہر نکل آئے۔ اُس کے بعد کچھ پتہ نہیں چلا۔ تھوڑی دیر بعد بہت زیادہ پولیس آ گئی۔
گلستان میں دوکان کے مالک راجہ عبدالرحمن نے بتایا کہ ’رات کو جب پہلا دھماکا ہوا تو میں باہر نکلا اور پھر کچھ پتہ نہیں چلا لیکن تھوڑی دیر کے بعد جب پولیس اور فوج آئی تو پھر مجھے ڈر لگا۔ خوف تو آتا ہے کیونکہ میری دُکان پارک کے بہت قریب ہے۔‘
دھماکے کے ایک روز بعد جب جمعرات کو ایوب پارک کے اطراف سخت سکیورٹی تھی۔ ایوب پارک جانے والی ایک سڑک جو صدر مشرف کی رہائش گاہ ’آرمی ہاؤس‘ کے ساتھ سے ہو کر گزرتی ہے وہاں واقع پہلی چیک پوسٹ پر پولیس اور آرمی کے اہلکار آنے جانے والی گاڑیوں کو روک کر پوچھ گچھ کر رہے تھے۔
جب میں ایوب پارک کے اُس گیٹ پر پہنچا جس کے سامنے گلستان کالونی کا رہائشی کا علاقہ واقع ہے تو اُس دروازے پر پولیس کے چند افراد اور دو فوجی موجود تھے اور گیٹ کو ہر آنے جانے والے کے لیئے بند کر دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ بھی ایوب پارک میں جانے والے تمام راستے بند کر دیئے گئے ہیں اور کسی کو پارک کے اندر جانے کی اجازت نہیں۔
ایوب پارک کے سامنے واقع رہائشی علاقے گلستان کے کچھ افراد نے بدھ کی شام کے دھماکے کے بعد فوج کے لگائے جانے والے ناکوں پر ناراضگی کا اظہار کیا۔
اس علاقے میں رہنے والی مسز ارشد کا کہنا تھا کہ وہ روزانہ اپنے بچوں کے ساتھ پارک میں واک کے لیئے جاتی تھیں اور اُنہیں بہت خوشی تھی کے وہ ایک بہت بڑے پارک کے پاس رہتی ہیں لیکن کل کے واقعے کے بعد وہ بہت بُرا محسوس کر رہی ہیں۔
مسز ارشد کا کہنا تھا کہ’اب پارک بند ہے ہم وہاں نہیں جا سکتے اور جب شام کو بچے تنگ کریں گے تو اُن کو سمجھانا پڑے گا۔‘
ایوب پارک کی دوسری جانب جی ٹی روڈ پر ٹریفک کا بہاؤ بالکل معمول کے مطابق تھا۔ ماسوائے جی روڈ کی جانب ایوب پارک کے گیٹ کے جہاں پولیس تعینات تھی۔