http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 04 October, 2006, 12:46 GMT 17:46 PST

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

لشکر کے مبینہ کارکن گرفتار

پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے کالعدم تنظیم لشکر جھنگوی کے مبینہ کارکن ارشد عرف ڈاکٹر کو اس کے تین ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا ہے اور ان کے قبضے سے اسلحہ برآمد کیا ہے۔

ان ملزمان پر مذہب کی بنیاد پر مخالف فرقے کے افراد پر پرتشدد حملوں کے الزامات ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزم ارشد عرف ڈاکٹر منڈی بہاءالدین میں جماعت احمدیہ کی ایک عبادت گاہ پر حملہ کے دوران آٹھ افراد کی ہلاکت اور دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا۔

گوجرانوالہ پولیس کے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس ملک اقبال نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں ملزمان کی گرفتاری کا اعلان کیا۔

انہوں نے بتایا کہ دیگر گرفتار ہونے والوں میں مرالہ کا رہائشی اظہر اقبال عرف وسیم عرف عبدالرحمان اور جہلم کا خضر حیات شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ارشد عرف ڈاکٹر ان کا سرغنہ اور شدت پسندی کے سنگین واقعات کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان نے اس برس تین جون کو شیعہ مسلمانوں کی عبادت گاہ میں آٹھ کلو وزنی ایک بم رکھا تھا تاہم ایک عورت نے دیکھ کر شور مچا دیا۔ یہ بم پولیس تھانے کے مال خانے میں رکھا گیا تھا جہاں رات کو وہ پھٹ گیا، جس سے تھانہ کی عمارت تباہ ہوئی اور ایک پولیس اہکار ہلاک ہوگیا تھا۔

انہوں نے دعوی کیا کہ ملزمان نے حال ہی میں سندھ میں حضرت شہباز قلندر کے مزار پر ہینڈگرینڈ سے حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن زائرین نے انہیں دیکھ لیا اور وہ دستی بم چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

ایڈیشنل آئی جی پولیس کے مطابق ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ وہ بم بنانے کے ماہر ہیں اور انہوں نے ایک ایسا پاوڈر تیار کیا ہے جو کسی بھی لوشن میں ملا کر انسان کے جسم پر لگانے سے اس کی پراسرار طور پر موت ہوجاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ملزمان نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ وہ سرگودھا میں طوائفوں کو زہر دے کر ہلاک کرنا چاہتے تھے۔

انسداد دہشت گردی گوجرانوالہ ڈویژن کی عدالت نے ملزم ارشد عرف ڈاکٹراور خضر حیات کی شناخت پریڈ کا حکم دیا ہے۔ ارشد عرف ڈاکٹر کو چودہ روز کی اور خضر کو سات روز کی عدالتی تحویل میں جیل بھجوا دیا گیا۔ ان کے ساتھی اظہر اقبال عرف عبدالرحمان کو سات روز کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان کا ایک ساتھی انجم سہیل پہلے سے گرفتار ہے۔

ملزمان کو عدالت میں پولیس کے کڑے پہرے میں پیش کیاگیا تھا۔ کسی کو ان کی گاڑی کے پاس جانے کی اجازت نہیں تھی اور پولیس کی بھاری نفری عدالت کے اردگرد بھی تعینات رہی۔