http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 04 October, 2006, 13:29 GMT 18:29 PST

ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

اسلامی مرکز پر چھاپہ، 150 رہا

صوبہ سرحد کے ضلع ہری پور میں پولیس نے منشیات کے عادی افراد کے علاج کی غرض سے بظاہر قائم ایک اسلامی مرکز پر چھاپہ مار کر تقریباً ڈیڑھ سو ایسے افراد کو بازیاب کرایا ہے جنہیں مبینہ طور پر زنجیروں میں باندھ کر رکھنے کے علاوہ جسمانی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔

اس مرکز کے انچارج سمیت سات افراد کوگرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

بظاہر ایک اسلامی مرکز کے طور پر کام کرنے والا یہ ادارہ ہری پور کے پڈھنا گاؤں میں قائم تھا۔ ہری پور پولیس کو اس مبینہ نجی تشدد کے مرکز کی اطلاع دو افراد نے وہاں سے فرار ہونے کے بعد دی۔

چکوال کے شاہد وسیم اور گوجر خان کے ماجد محمود نامی ان افراد نے پولیس کو بتایا کہ ان کے رشتہ دار ان کو نشے کی لت سے نجات دلانے کے لیئے حافظ الیاس قادری کے مدرسے میں داخل کرا گئے تھے۔

لیکن مدرسے میں انہیں زنجیروں کے ساتھ باندھ کر رکھا جاتا اور مارا پیٹا جاتا تھا۔ تھانہ کھلا بٹ کے محمد حنیف نے ان افراد کی جانب سے درج مقدمے میں لگائے جانے والے الزامات کی مزید تفصیل بی بی سی کو بتاتے ہوئے کہا کہ ان افراد کا کہنا تھا کہ ان سے وہاں جبری مشقت کرائی جاتی، جنسی اور جسمانی تشدد کیا جاتا، اسلحے کی نوک پر ڈرایا دھمکایا جاتا اور کھانا بھی انتہائی ناقص دیا جاتا تھا۔ انہوں نے قید افراد کو زنجیروں سے باندھ کر رکھنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ قید افراد میں غیر ملکی بھی شامل تھا۔

اس اطلاع پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اس نجی ’قید خانے‘ کو گھیرے میں لے کر اس مدرسے کے سربراہ حافظ الیاس قادری سمیت سات افراد کو حراست میں لیا ہے۔

تاہم آخری اطلاعات تک یہ واضح نہیں تھا کہ اس قید خانے میں غیر ملکی کون تھے۔