Tuesday, 26 September, 2006, 15:14 GMT 20:14 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، میران شاہ
پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان اور کشمیر میں شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں کو پہچاننا کوئی مشکل بات نہیں۔ ان سب کا حلیہ تقریبا ایک ہی جیسا ہوتا ہے۔ لمبے بال، پاکول ٹوپی، کندھے سے لٹکتی بندوق، ٹخنوں سے اونچی شلوار اور سروس کمپنی کے ’چیتا‘ جاگرز جوتے۔
افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد سے کلاشنکوف تو اتنی تعداد میں آئی کہ اگر کسی کے پاس دیکھیں تو تعجب ہرگز نہیں ہوتا۔ باقی لمبے بال، اونچی شلوار اور ٹوپی کی وجوہات تو مذہبی اور مقامی روایات ہیں لیکن ایک حیران کن بات ان کے اکثر ایک جیسے جاگرز ’شوز‘ ہیں۔
سفید یا سیاہ رنگ کے یہ مخصوص جوتے سروس نامی کمپنی تیار کرتی ہے اور ’چیتا’ کے نام سے فروخت کرتی ہے۔ یہ جوتے اس کمپنی نے ستر اور اسی کی دہائی میں متعارف کرائے تھے۔ ابتدا میں ملک بھر میں پسند کیئے جانے والے یہ جوتے اب قدرے ’آوٹ آف فیشن‘ ہوچکے ہیں۔ لیکن چاہے کشمیر ہو یا وزیرستان، یہ جوتے چند شدت پسند تنظیموں کا اب بھی مخصوص ’ٹریڈ مارک‘ ہیں۔
چیتا پہن کر چیتا محسوس کرتے ہیں۔۔ |
’یہ زیادہ مضبوط ہیں اور پہاڑی علاقوں کے لیئے موضوع ہیں اس لیئے طالبان کو پسند ہیں۔ بس وہ آکر یہی جوتے مانگتے ہیں۔ کئی نئی قسم کے بھی سپورٹس شوز آئے ہیں ان کے بعد لیکن وہ انہیں پسند نہیں کرتے‘۔
یہ جوتے صرف دو رنگوں یعنی سفید اور سیاہ میں دستیاب ہیں۔ اس دکاندار کے بقول طالبان سیاہ رنگ جبکہ دیگر نوجوان سفید رنگ زیادہ پسند کرتے ہیں۔ ایک جوتے کی قیمت تقریبًا ایک ہزار روپے تک ہے۔
میران شاہ میں یہ جوتے پاکستان کے دیگر علاقوں سے تقریبا ڈیڑھ سو روپے سستے ملتے ہیں۔ اس کی وجہ ان کو پہلے افغانستان برآمد کیا جانا ہے جس کی وجہ سے ان پر چند ٹیکس نہیں لاگو ہوتے۔ بعد میں یہ سمگل ہوکر دوبارہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سستے فروخت ہوتے ہیں۔
اس دکاندار کا کہنا تھا کہ وہ تھوک کا کام کرتا ہے لہذا دن میں سو یا ڈیڑھ سو تک یہ جوتے فروخت کر دیتا ہے۔
![]() | |
| امن معاہدے پر دستخط کرتے وقت بھی مقامی طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے بھی سیاہ چیتا جوتے پہن رکھے تھے |
جنوبی وزیرستان میں گزشتہ برس حکومت کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرتے وقت بھی مقامی طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود نے بھی سیاہ چیتا جوتے پہن رکھے تھے۔ اس تقریب میں موجود کئی جنگجؤوں نے بھی یہی جوتے پہن رکھے تھے۔
جب بات ذات کی ہوتی ہے تو پھر طالبان بھی اس پر زیادہ روشنی ڈالنا پسند نہیں کرتے۔ میران شاہ بازار میں کئی افراد سے، جنہوں نے یہی جوتے پہن رکھے تھے، بات کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ہوئی۔
تاہم عام خیال یہی ہے کہ اس جوتے کی خصوصیات کے علاوہ اس کا نام بھی اس کی مقبولیت کی ایک وجہ ہوسکتا ہے۔ ایک قبائلی کا کہنا تھا کہ اسے پہن کر شدت پسند اپنے آپ کو چیتا محسوس کرنے لگتے ہیں۔