Saturday, 23 September, 2006, 18:39 GMT 23:39 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں ماہ رمضان کا چاند ایک مرتبہ پھر اس وقت متنازعہ ہوگیا جب صوبہ سرحد کی حکومت نے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا فیصلہ نہ مانتے ہوئے صوبے میں اتوار کو پہلے روزے کا اعلان کر دیا۔
مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے لاہور میں سنیچر کی رات آٹھ بجے تک ملک کے کسی بھی حصے سے چاند نظر نہ آنے کے بعد پیر کو پہلے روزے کا اعلان کر دیا۔
مرکزی کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمان کا کہنا تھا کہ چاند نظر آنے کی شہادت ملک کے کسی حصے سے موصول نہیں ہوئی لہذا یکم رمضان المبارک پیر کو ہوگا۔
مفتی منیب نے اس سلسلے میں محمکہ موسمیات اور خلائی تحقیقی ادارے سپارکو کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ان سے بھی آج چاند کے نظر آنے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
تاہم پشاور میں زونل کمیٹی کا اجلاس مرکزی کمیٹی کے اعلان کے بعد بھی ایک گھنٹہ جاری رہا جس میں صوبائی وزیر مذہبی امور مولانا امان اللہ حقانی کا کہنا تھا کہ صوبے کے مختلف اضلاع سے چالیس شہادتیں موصول ہوئی جن کی بنیاد پر وہ اتوار کو صوبے میں پہلے روزے کا اعلان کرتے ہیں۔
صوبائی وزیر نے مرکزی کمیٹی پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ انہیں ان شہادتوں کے بارے میں بر وقت مطلع کر دیا گیا تھا جسے انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
مالاکنڈ اور شمالی وزیرستان میں تو مقامی علماء نے مرکزی اور صوبائی رویت ہلال کمیٹیوں کے فیصلوں کا انتظار کیے بغیر ہی اتوار کو روزے کا اعلان کر دیا تھا۔
اس طرح ہر سال کی طرح ایک مرتبہ پھر اس سال بھی صوبہ سرحد اور ملک کے دیگر حصوں میں علیحدہ علیحدہ وقت پر رمضان شروع ہوگا۔
اس معاملے پر ہر سال ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور طویل بحث اور مباحثوں کے باوجود اس کا کوئی مستقل حل نہیں نکالا جا سکا ہے۔