ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں متحدہ قومی موومنٹ کے دو کارکن نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔
ٹی پی او لانڈھی نے بتایا کہ سلیم اور رئیس موٹرسائیکل پر جارہے تھے کہ شیرآباد کے علاقے میں موٹر سائیکل پر سوار دو افراد نے اندھادہند فائرنگ کی جس میں سلیم اور رئیس ہلاک ہوگئے۔ دونوں کو آٹھ گولیاں لگی۔
واقعے کے بعد لانڈھی میں سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ نامعلوم افراد نے دکانیں بند کرادیں ہیں اور ٹائر جلائے گئے ہیں۔
دوسری جانب متحدہ کی چار خواتین اراکین اسمبلی سے لوٹ مار ہوئی ہے۔ یہ لوٹ مار اس وقت کی گئی جب اراکین اسمبلی گورنر ہاؤس میں ایک اجلاس میں شرکت کے بعد پارٹی کے مرکز نائین زیرو جارہی تھیں۔
جمشید ٹاؤن پولیس نے چاروں اراکین اسمبلی ریحانہ نسرین،اسما شیروانی، آفرین عنبرین اور عزیز فاطمہ سے لوٹ مار کا مقدمہ درج کرلیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ان سے ڈیڑھ لاکھ نقد، زیوارات اور موبائیل فون چھینے گئے ہیں۔
ریحانہ نسرین نے سندھ اسمبلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ رات کو دس ساڑھے دس بجے گونر ہاؤس میں ایک میٹنگ میں شرکت کے بعد سوزوکی کیری گاڑی میں جارہی تھیں کہ جہانگیر روڈ پر موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے انہیں روک لیا، ان پر ہتھیار تان لیئے اور ان سے نقد رقم سمیت تمام سامان چھین کر فرار ہوگئے۔