http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 18 September, 2006, 15:00 GMT 20:00 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پشاور: دھماکے میں کئی گاڑیاں تباہ

پشاور صدر میں پیر کے روز غربی پولیس تھانے کے حدود میں واقع کار پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں دھماکے سے ایک درجن کے قریب گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

ایس ایس پی پشاور افتخار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دھماکہ ایک سوزوکی کار میں نصب گیس کیٹ سیلنڈر پھٹنے سے ہوا ہے جس سے تین گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوئی ہیں جبکہ وہاں پر موجود دیگر ایک درجن کے قریب گاڑیوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ تاہم عینی شاہدین اور دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ بم پھٹنے سے ہوا ہے۔

ایس ایس پی نے بتایا کہ وہ حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ دھماکہ بم یا گیس سلینڈر پھٹنے کے نتیجے میں ہوا تاہم اس سلسلے میں حتمی بات بم ڈسپوزل سکواڈ کی رپورٹ آنے کے بعد ہی کہی جاسکتی ہے۔

دھماکہ پیر کی شام چاربجکر پچیس منٹ پر اس وقت ہوا جب تھانہ غربی کے حدود میں واقع کارپارکنگ میں درجنوں گاڑیاں کھڑی تھیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس سے غربی تھانے کی عمارت کے شیشے بھی ٹوٹ گئے اور اس کی آوازیں دور دور تک سنائی دیں۔

دھماکے سے تین گاڑیاں مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہیں جبکہ ایک درجن کے قریب دیگر گاڑیوں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔ دھماکے کے فوراً بعد آئی جی پولیس، ایس ایس پی آپریشن، ایس ایس پی انوسٹی گیشن، بم ڈسپوزل سکواڈ اور ملٹری پولیس کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔

اس موقع پر صحافیوں سے مختصر بات میں آئی جی سرحد رفعت پاشا نے کہا کہ دھماکے کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا اور بم ڈسپوزل سکواڈ کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد ہی کچھ کہا جاسکے گا۔ آئی جی نے اس موقع پر دھماکے کی فوری تحقیقات کا حکم دیا۔

ادھر بم ڈسپوزل سکواڈ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ایسی کوئی نشانی نہیں ملی جس سے ثابت ہو کہ یہ بم دھماکہ تھا تاہم اس سلسلے میں تفتیش جاری ہے۔