Monday, 18 September, 2006, 02:54 GMT 07:54 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
کوئٹہ میں آل پارٹیز کی جانب سے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور ان کی لاش ورثا کے حوالے نہ کرنے کے خلاف احتجاجی جلسہ منعقد ہو رہا ہے جس سے مرکزی قائدین خطاب کریں گے لیکن متحدہ مجلس عمل کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ انہیں اس جلسے میں خطاب کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
کوئٹہ کے صادق شہید پارک میں پیر کے روز شام کے وقت جلسہ منعقد ہوگا جس سے پاکستان پیپلز پارٹی کے مخدوم امین فہیم مسلم لیگ نواز گروپ کے راجہ ظفرالحق عوامی نیشنل پارٹی کے اسفندیار ولی بلوچستان نیشنل پارٹی کے سردار اختر مینگل پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی نیشنل پارٹی کے ڈاکٹر عبدالحئی اور دیگر جماعتوں کے قائدین خطاب کریں گے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اسفندیار ولی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شاہ محمود قریشی کوئٹہ پہنچ چکے ہیں جبکہ دیگر قائدین سوموار کی صبح کو پہنچ رہے ہیں۔
متحدہ مجلس عمل کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری حافظ حسین احمد نے اسلام آباد سے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ وہ کوئٹہ آئے تھے لیکن انہیں اس جلسے سے خطاب کرنے سے روک دیا گیا ہے ۔ان سے جب وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا کہ یہ منتظمین ہی بتا سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں مسلم لیگ نواز گروپ کے اقبال ظفر جھگڑا سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس کی انتظامات کی ذمہ داری پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کی ہے لیکن انہیں ایسا لگتا ہے کہ بلوچستان کے مخصوص حالات کی وجہ سے شائد مجلس عمل کو شرکت کی دعوت نہ دی گئی ہو۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے لیڈر ساجد ترین ایڈووکیٹ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ اب سے تھوڑی دیر پہلے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے منعقدہ اجلاس میں شریک تھے جہاں مجلس عمل کے قائدین کی شرکت کے بارے میں کوئی تجویز سامنے نہیں آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں مجلس عمل کے حوالے سے قوم پرست جماعتوں کو کچھ خدشات لاحق ہیں جیسے قوم پرست جماعتیں وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ بلوچستان حکومت کو بھی فوجی آپریشن اور نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کی ذمہ دار سمجھتی ہے اور مجلس عمل بلوچستان میں مخلوط حکومت میں شامل ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈر شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مجلس عمل کے قائدین کو اس جلسے میں شرکت کرنی چاہیے اور اگر کسی کو کوئی خدشات لاحق ہیں تو اس جلسے میں مجلس عمل کے قائدین اس کی وضاحت کریں۔