Friday, 15 September, 2006, 16:40 GMT 21:40 PST
علی حسن
بی بی سی ڈاٹ کام، حیدرآباد، سندھ
سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں آدھے شہر کی زندگی مفلوج ہے اور یہ سات اور آٹھ ستمبر کو ہونے والی 170 ملی میٹر بارش کا نتیجہ ہے۔
یہ لطیف آباد ہے |
ہمارا اجتماعی المیہ یہ ہے کہ جب ہم کسی بھی صورتحال سے نکل آتے ہیں یا ایک خاص حالات سے گزر جاتے ہیں تو ہم گزرے ہوئے واقعات اور تجربات پر دوبارہ غور ہی نہیں کرتے ہیں یا یوں کہیے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں لیتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو ہم 1978 میں ہونے والی بارش سے پیدا ہونے والے اسی قسم کے غیر معمولی حالات یا 1994 کی معمولی بارش سے ہی کچھ سیکھ لیتے اور نکاسی آب کے نظام میں مرحلہ وار ہی سہی کوئی بہتری لے آتے۔ مئی 2004 میں آلودہ پانی کے استعمال سے ہونے والی ساٹھ اموات کے بعد بھی ہم نے فراہمی آب اور نکاسی آب کے نظام پر سنجیدگی سے غور کر لیا ہوتا تو شہری آج کی صورتحال سے ہرگز دوچار نہیں ہوتے۔
![]() | |
| لوگ ٹریکٹر کے ٹائر پر بیٹھ کر جا رہے ہیں |
ادارہ ترقیات ہو، ادارہ برائے فراہمی آب اور نکاسی آب ہو یا ضلع حکومت کے کارندے، غرض ہر کوئی ایک ہی جواب دیتا ہے: قدرت خیر کرےگی، قدرت بہتر کرے گی۔
قدرت خیر کرے گی |
ساری صورتحال سے نا قابل تلافی نقصان حالانکہ ان لوگوں کو ہوا ہے جو پانی میں ڈوبے ہوئے علاقوں میں محصور ہیں، بے بس ہیں، ان کی جائیداد کا نقصان ہوا ہے یا کاروبار تباہ ہوگیا۔ حکمران اور انتظامیہ ہیں کہ اصل معاملہ اور اس کے حل پر غور کرنے کے لیئے بھی تیار نہیں ہیں۔
فوج بھی میدان میں ہے لیکن ان کے اور سول اداروں کے درمیان کوئی قابل ذکر مربوط رابطہ موجود نہیں ہے۔ فوجی اب یہ جانتے ہیں کہ نالے، زیر زمین نالے اور پائپ لائنیں کہاں کہاں سے ناکارہ ہیں جن کے سبب بارش کے پانی کی بروقت اور مناسب رفتار سے نکاسی نہیں ہو سکی۔ جس میں برگیڈئیر مرتضی کے مطابق ابھی کچھ دن اور لگیں گے۔ برگیڈئیر مرتضی فوج کی اس ٹیم کے سربراہ ہیں جو نکاسی آب کی کوشش میں مصروف ہے۔ فوج کی دو دیگر ٹیم امدادی خوراک کی فراہمی اور صحت و صفائی کے معاملات دیکھ رہی ہیں۔
![]() | |
کیا یہ کم قابل افسوس بات ہے کہ ضلعی حکومت کے پاس کسی قسم کا کوئی تحریری منصوبہ تو درکنار، زیر زمین گزرنے والی پائپ لائنوں کا کوئی نقشہ بھی سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔
جہاں سے جس کا دل چاہ رہا ہے، نالے توڑ رہا ہے، سڑکیں کھود رہا ہے، نالے اور نالیاں بنا رہا ہے، پانی نکالنے کے لیئے پمپ لگا اور چلا رہا ہے۔ افراد کو تو چھوڑیں، ادارے تک، ’پانی ادھر ڈالو، پانی ادھر ڈالو‘ کی بنیاد پر پانی ایک علاقے سے نکال کر دوسرے علاقے میں ڈال رہے ہیں، نہ قبرستان چھوٹے ہیں نہ سکول و تعلیمی ادارے اور نہ ہی کھیل کے میدان۔ ایک ایسا بے ہنگم سلسلہ بے حسی ہے جسے دیکھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ بارش سے تو نقصان ہوا ہی تھا لیکن پانی نکالنے کی سعی میں جو نقصان ہو رہا ہے اس کا ازالہ طویل عرصے تک نہیں ہو سکے گا۔