Friday, 15 September, 2006, 16:26 GMT 21:26 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
کوئٹہ میں جماعت اسلامی نے بلوچستان میں جاری فوجی کارروائی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ جماعت کے قائدین نے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ملک بھر میں مظاہرے کریں گے۔
پریس کلب کوئٹہ کے سامنے بینرز اورکتبے اٹھائے جماعت اسلامی کے کا رکنوں نے حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی ہے ۔
جماعت اسلامی کے کوئٹہ کے امیر زاہد اختر نے فوجی حکمرانوں پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ نواب اکبر بگٹی پاکستان کے خلاف نہیں تھے ۔ انھوں نے کہا کہ وہ ایسی حکومت کا حصہ نہیں بننا چاہتے جو یہاں لوگوں پر بمباری کرے ۔
متحدہ مجلس عمل کی طرف سے بلوچستان اسمبلی میں جماعت اسلامی کی کوئی نمائندگی نہیں ہے صرف جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے ارکان بلوچستان اسمبلی میں بیٹھے ہیں اور خواتین ارکان کو چھوڑ کر سب کے سب وزیر ہیں۔ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد جمعیت علماء اسلام نے تاحال کوئی احتجاجی مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ پانچ ستمبر کو اسلام آباد میں منعقدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے اجلاس سے پہلے یہ کہا گیا تھا کہ وہ مجلس عمل بلوچستان میں صوبائی حکومت سے علیحدہ ہو جائے گی لیکن ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔
زاہد اختر نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے پر وہ ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کریں گے اور ماہ رمضان میں لوگوں کو بتائیں گے کہ فوجی حکمرانوں کی پالیسیوں سے ملک کو خطرہ لاحق ہے۔
آج کوئٹہ پریس کلب میں کیتھولک چرچ سے وابستہ ایک غیر سرکاری تنظیم کے عہدیداروں سے بھی اخباری کانفرنس میں کہا ہے کہ بلوچستان میں فوجی کارروائی بند کرکے مذاکرات شروع کیے جائیں اور غیر قانونی حراستوں کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔