Sunday, 10 September, 2006, 18:58 GMT 23:58 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
پاکستان کے قبائلی علاقے درہ آدم خیل میں حکام کا کہنا ہے کہ شیعہ رہنما علامہ حسن ترابی کے قتل میں مبینہ طور پر مطلوب ایک شدت پسند رہنما بم دھماکے میں ہلاک جبکہ ان کے تین ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
درہ آدم خیل کے اسسٹنٹ پو لیٹکل ایجنٹ ریاض حسن خٹک نے بی بی سی کو تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شدت پسند رہنما حضرت علی جمعے کو اپنے گھر واقع درہ آدم خیل میں بم بناتے ہوئے خود بھی دھماکے میں ہلاک ہو گئے۔ دھماکے میں ان کے چار ساتھی زخمی ہوئے۔
تاہم شدت پسندرہنما کے ہلاکت کے حوالے سے متضاد اطلاعات آ رہی ہیں۔
بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے گھر پر بم حملہ کیا گیا ہے جب کہ پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق وہ گھر میں خود بم بناتے ہوئے ہلاک ہوئے۔
درہ آدم خیل کے پولیٹکل تحصیلدار اسماعیل کا کہنا ہے کہ حساس ادروں کی جانب سے انتظامیہ کو حضرت علی کے بارے میں پہلے سے اطلاعات تھی کہ وہ علامہ حسن ترابی کے قتل میں مطلوب ہیں اور اس سلسلے میں تحقیقات جاری تھی کہ دو دن قبل وہ خود ہی ایک دھماکے میں ہلاک ہو گئے۔
انہوں نے بتایا کہ ملزم کے ساتھ ان کے چار ساتھی بھی تھے جن میں تین اس دھماکے میں معمولی زخمی ہوئے اور جنہیں بعد میں گرفتار کر لیا گیا جب کہ چوتھا ساتھی شدید زخمی حالت میں لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں زیر علاج ہے۔
سرکاری اہلکار کا مزید کہنا تھا کہ علامہ ترابی کیس میں الیاس نامی ایک اور شخص بھی مطلوب ہے جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔
واضع رہے کہ شیعہ رہنما علامہ حسن ترابی کو تقریناً دو ماہ قبل جولائی کے مہینے میں کراچی میں ایک خودکش حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔ اس حملے کے نتیجے میں حملہ آور کے علاوہ علامہ حسن ترابی کا ایک بھانجا بھی ہلاک ہوگیا تھا ۔