ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
اندرون سندھ شدید بارش میں بارہ سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ رن پٹھانی ریلوے پل بہہ جانے کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر کراچی کا بذریعہ ریلوے ملک بھر سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے حیدرآباد شہر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں ایک سو ستر ملی میٹر سے زائد بارش ہوئی ہے، بارش کا سلسلہ جمعرات کی شام سے شروع ہوا جو چوبیس گھنٹے جاری رہا۔ موسلادھار بارش کی وجہ سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے، لطیف آباد ، قاسم آباد میں کشتیاں چلاکر لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔
حیدرآباد کی ضلعی حکومت نے جمعہ کے روز ہنگامی حالات نافذ کرتے ہوئے مدد کے لیئے فوج کو طلب کرلیا ہے، فوج اور رینجرز کے جوانوں نے لوگوں کو گھروں سے نکالا گھروں اور سڑکوں میں دو سے تین فٹ پانی جمع ہوگیا ہے، متاثرین کے لیئے رلیف کیمپ قائم کیئے گئے ہیں۔
![]() | |
| حیدرآباد میں ہنگامی حالات نافذ کرتے ہوئے فوج کو طلب کرلیا گیا ہے |
محکمہ ریلوے کے وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ پل کی مرمت میں سات دن درکار ہوں گے۔ اس وقت تک مسافروں کو حیدرآباد پنہچانے اور کراچی لانے کے لئے مسافر کوچوں کا بندوبست کیا جارہا ہے۔
حیدرآباد، میرپورخاص، ٹھٹہ، ٹنڈو محمد خان اور بدین میں شدید بارش میں مکانات گرنے اور کرنٹ لگنے کے واقعات میں بارہ سے زائد افراد ہلاک جبکہ پچاس سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔