Friday, 08 September, 2006, 17:28 GMT 22:28 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
بلوچستان کےشہر رکھنی میں زور دار دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور کم سے کم سترہ زخمی ہوئے ہیں۔
پولیس اہلکاروں نے بتایا ہے کہ یہ دھماکہ رکھنی بازار میں سول ہسپتال کے قریب کچرے کے ڈبے اور لوہے کے کھمبوں کے پاس ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نامعلوم افراد نے وہاں پر ایک طاقتور بم نصب کر رکھا تھا۔ بم کے پھٹنے سے وہاں پر موجود اکثر افراد کے بازو اور ٹانگیں ٹوٹ گئیں۔
مقامی صحافی امانت حسین نے بتایا ہے کہ زیادہ تر زخمیوں کو ڈیرہ غازی خان ہسپتال لے جایا گیا ہے جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
بارکھان کے جنوب میں کوہلو اور ڈیرہ بگٹی کے اضلاع واقع ہیں لیکن پولیس حکام نے کہا ہے کہ اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہاں ان دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔
یاد رہے گزشتہ روز لورالائی میں کوئٹہ پولیس نے جا کر ایک مکان پر چھاپہ مارا تھا جس میں ایک ڈی ایس پی سمیت تین افراد ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔
یہ کارروائی کوئٹہ کے قریب کچلاک میں ایک گاڑی کے پکڑے جانے کے بعد کی گئی تھی۔ اس گاڑی میں دو طاقتور بم نصب تھے اور پولیس نے بتایا ہے کہ یہ گاڑی لورالائی کے اسی مکان میں تیار کرکے روانہ کی گئی ہے جہاں پولیس نے چھاپہ مارا۔
اس کے علاوہ آج کوئٹہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی قائدین نے اخباری کانفرس میں کہا ہے کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے۔ چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف اگر پاکستان کو بچانا چاہتے ہیں تو بلوچ قوم کوگلے لگائیں۔
اس کے علاوہ آج لورالائی میں قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم، اتحاد برائے بحالئی جمہوریت یا اے آر ڈی اور عوامی نیشنل پارٹی کے زیر انتظام جلسہ شام دیر تک جاری رہا۔ یہ جلسہ متحدہ اپوزیشن کی جانب سے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت اور لاش ورثا کے حوالے نہ کرنے کے خلاف جاری احتجاجی مہم کا حصہ ہے۔