http://bbc.com.im/urdu/

Thursday, 07 September, 2006, 11:28 GMT 16:28 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

چوہدریوں پر تنقید: اسمبلی میں گرما گرما

حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الہٰی پر تنقید کے معاملے پر حکومتی جماعت کے اراکین آپس میں الجھ پڑے اور ان کے درمیان قومی اسمبلی کے اجلاس میں خاصی گرما گرمی ہوئی۔

بہاولپور سے منتخب رکن اسمبلی فاروق اعظم نے کہا کہ وہ حکومت میں شامل ہیں لیکن ان کے گھر کے فون ٹیپ ہوتے ہیں اور ان کی نوے سالہ بزرگ والدہ اور بچوں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ نہ انہیں ترقیاتی فنڈز ملتے ہیں اور نہ کوئی کام ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرائکی اضلاع میں اہم عہدوں پر گجرات کے افسر تعینات ہیں اور بہاولپور میں چپراسی اور بیلدار بھی جٹ لگائے گئے ہیں۔

فاروق اعظم نے کہا کہ نواب بہاولپور نے پاکستان میں شمولیت پنجاب صوبے کا حصہ بننے کے لیے نہیں کی تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لوگوں کو حقوق دیے جائیں اور سرائکیوں کا بہاولپور صوبہ بحال کرتے ہوئے پنجاب کو توڑا جائے۔

اس بات کے جواب میں علی اکبر وینس نے کہا کہ پاکستان میں شمولیت کے لیے انہوں نے کسی سے منتیں نہیں کیں تھیں اور اب جنہیں زمینیں نہیں ملتیں اور نمبرداری خطرے میں ہے وہ ایسی غلط باتیں کر رہے ہیں۔

لیہ سے منتخب ایک اور حکومتی رکن سردار بہادر خان ِسیہڑ نے کہا کہ سرائکی اپنی ثقافت، زبان اور جغرافیائی اعتبار سے ایک علحدہ قومیت ہے اور اُسے سب کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں۔

اس دوران بہاولپور سے تعلق رکھنے والی رکنِ اسمبلی شہناز شیخ نے کہا کہ اصل میں فاروق اعظم کو مسلم لیگ سے علیحدہ ہونا ہے کیونکہ وہ دوبارہ منتخب نہیں ہوسکتے اس لیے وہ دوسری پارٹی میں جانے کی خاطر اپنی حکومت پر تنقید کرتے ہیں۔

جس پر فاروق اعظم نے کہا کہ شہناز شیخ کا اب بہاولپور سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ وہاں سے اب انہیں طلاق ہوچکی ہے۔

حکومتی اراکین میں گرما گرمی جاری تھی کہ اس دوران ایک اور حکومتی رکن امجد وڑائچ نے الزام لگایا کہ وزارت مذہبی امور نے رشوت لے کر ٹوئر آپریٹرز کو حج کا کوٹہ الاٹ کیا ہے۔

جب حکومت کے خلاف حکومت اراکین بولنے لگے تو سپیکر نے ان سے کہا کہ یہ معاملات وہ اپنی پارٹی کے اجلاس میں اٹھائیں اور ایوان میں نہ بولیں۔