Wednesday, 06 September, 2006, 06:11 GMT 11:11 PST
ہارون رشید
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
جنوبی وزیرستان میں کئی برسوں تک ایک کے بعد دوسری غلطیوں سے بظاہر سبق سیکھنے کے بعد حکومت نے شمالی وزیرستان میں جو گرینڈ جرگے کا نیا تجربہ آزمایا ہے وہ فی الوقت کامیاب دکھائی دے رہا ہے۔
اس برس کے اوائل میں شمالی وزیرستان میں حالات نے انتہائی خطرناک صورت اس وقت اختیار کرلی تھی جب افغانستان کی سرحد کے قریب ڈانڈے سیدگئی میں آٹھ مکانات کو القاعدہ اور طالبان کا تربیتی مرکز بتاتے ہوئے پاکستان فوج نے بڑی کارروائی کی تھی۔ اس حملے میں پندرہ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تاہم حکومت نے پینتالیس افراد، جن میں بقول ان کے پینتیس غیرملکی بھی شامل تھے، ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔
اس کا بڑا شدید اور غیرمتوقع ردعمل ہوا۔ مقامی طالبان نے غصے میں صدر مقام میران شاہ میں کئی سرکاری دفاتر سمیت، جن میں ایک ٹیلیفون ایکسچینج بھی شامل تھی، کئی عمارتوں پر قبضہ کر لیا۔ ان قبائلی شدت پسندوں کے رہنما مولوی عبدالخالق نے ایجنسی میں تعینات فوج کو علاقہ خالی کرنے کے لیئے کہا۔
فوج اور عقل کے ناخن |
اس کے بعد سے مقامی طالبان کی جانب سے فوج پر حملوں کا ایک بظاہر نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ بات وزیرستان سے باہر نکلی اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی پولیس پر حملہ ہوا۔
![]() | |
| کور کمانڈر لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے نیک محمد کے ساتھ امن معاہدہ کیا تھا |
تاہم وفاقی حکومت کی وزیرستان کے مسئلے کے حل کے لیئے پالیسی میں اہم تبدیلی گورنر سرحد کی تبدیلی سے آئی۔ سابق گورنر خلیل الرحمان کو کئی لوگ وزیرستان میں بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ نئے گورنر علی جان اورکزئی نے فوج کے کردار کو قدرے کم کیا اور مقامی انتظامیہ کو جوکہ ماضی میں یکسر نذر انداز کی جا رہی تھی آگے آنے کا موقع دیا۔
قبائلیوں اور سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق وزیرستان میں صورتحال کی خرابی کی اصل وجہ ہی فوج کا ہر مسئلے پر آگے آگے ہونا تھا۔ اس کی ایک واضح مثال جنوبی وزیرستان ہے جہاں مختلف قبائلی کے ساتھ امن معاہدوں کے باوجود صورتحال آج تک تشویشناک ہے۔ فوجی قیادت نے وہاں مقامی روایات کو نذر انداز کیا، مقامی انتظامیہ کو بائی پاس کیا اور شدت پسندوں سے خود مذاکرات کیئے، ان کے گلے میں خود ہار ڈالے اور انہیں خود ’امن کا سپاہی‘ قرار دیا۔
جامع معاہدہ |
مثبت بات یہ ہے کہ فوجی قیادت کو اپنی غلطی کا جلد احساس ہوا اور پھر محسود جنگجوؤں کے ساتھ امن معاہدے کے سلسلے میں اس نے خود کو پیچھے کیا۔ مقامی انتظامیہ نے بیت اللہ کے ساتھ سراروغہ کے مقام پر امن معاہدہ کیا جو آج تک قائم ہے۔
شکئی اور سراروغہ کے معاہدوں سے فوج کو وہاں القاعدہ اور طالبان کے نام پر کارروائی کرنے کی آج تک ضرورت تو نہیں پڑی تاہم حکومت کی رٹ بحال نہ کراسکی۔ جنوبی وزیرستان آج بھی عام شہریوں، سرداروں اور صحافیوں کے لیئے اتنا خطرناک ہے جتنا دنیا میں شاید ہی کوئی خطہ ہو۔ حکومتی اہلکار اپنے دفاتر تک محدود ہیں جبکہ باہر ایک خلاء کو مسلح گروہ اپنی بدمعاشی اور من مانی سے پُر کر رہے ہیں۔ وہاں سرکاری رٹ کب بحال ہوگی کوئی وقت دینا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔
![]() | |
| جنوبی وزیرستان آج بھی عام شہریوں، سرداروں اور صحافیوں کے لیئے اتنا خطرناک ہے جتنا دنیا میں شاید ہی کوئی خطہ ہو |
جرگے نے جو امن معاہدہ طے کرایا ہے وہ ماضی کے معاہدوں سے قدرے جامع بھی ہے۔ اس میں اس بات کا خیال رکھا گیا ہے کہ جنوبی وزیرستان کی طرح لاقانونیت سے بچنے کے لیئے فریقین سے یہ کہلوانا ضروری ہے کہ عملداری بالآخر حکومت پاکستان کی ہوگی اور ٹارگٹ کلنگ بند ہوگی۔
ایک دوسرا مثبت پہلو اس معاہدے کا یہ ہے کہ جرگے نے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی خاطر دس رکنی مستقل کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو کسی تنازعہ کی صورت میں حل تلاش کرنے کی کوشش کرے گی۔
جنوبی وزیرستان کے برعکس شمالی وزیرستان میں اس معاہدے کے کامیاب ہونے کی ایک اور بڑی دلیل یہاں مقامی طالبان قیادت کا متحد ہونا ہے۔ جنوب میں احمدزئی وزیر اور محسود علاقوں میں یہ تقسیم ہیں اور پھر ایک ہی علاقے میں وہ دوبارہ کئی گروہوں میں تقسیم ہیں۔
شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے دو مرتبہ جنگ بندی میں توسیع کرکے بھی ثابت کیا کہ وہ محض لڑنے کے لیئے یہ ساری کارروائیاں نہیں کر رہے تھے بلکہ ان کے خدشات اور اعتراضات تھے۔ اب بہتر ہوگا کہ حکومت انہیں مزید ’دہشت گرد یا شرپسند‘ کہنے کی بجائے ان کے ان خدشات کو دور کرے۔
طالبان کے ترجمان کے بقول وہ پاکستانی ہیں اور صرف اپنے دین اور غیرت کی وجہ سے لڑ مر رہے تھے۔ امید کی جاتی ہے کہ حکومت انہیں دوبارہ اس پر مجبور نہیں کرے گی۔