Tuesday, 05 September, 2006, 13:53 GMT 18:53 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں چھ مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے فی الوقت بلوچستان کی صوبائی حکومت سے علیحدہ نہ ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے حدود قوانین میں ترامیم کا بل پاس کیا تو وہ منتخب ایوانوں سے مستعفی ہونے کا حتمی فیصلہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔
منگل کو مجلس عمل کی سپریم کونسل کا اجلاس ہوا جس کے بعد بریفنگ دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اگر بلوچستان میں گورنر راج نافذ کرنے کی نوبت آئی تو وہ حزب مخالف کی جماعتوں کی مشاورت کے ساتھ کوئی راستہ نکالیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دو روز تک حافظ حسین احمد میڈیا کے نمائندوں سے کہتے رہے ہیں کہ مجلس عمل نواب بگٹی کے قتل کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد حکمران مسلم لیگ کے ساتھ صوبہ بلوچستان میں تعاون ختم کرنے پر غور کرے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ان کے اتحاد نے صوبائی حکومت سے علیحدگی اختیار نہیں کی تو ان کا قومی اسمبلی میں بیٹھنا مشکل ہوجائے گا اور وہ خود مستعفی ہونے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی رؤف مینگل نے بھی منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حافظ حسین احمد نے ان سے کہا تھا کہ ان کے اجلاس کے فیصلے تک وہ مستعفی نہ ہوں اور بعد میں اکٹھے مستعفی ہوں گے۔
ایسے ماحول میں امکان تھا کہ متحدہ مجلس عمل بلوچستان میں مسلم لیگ کی حکومت سے علیحدہ ہونے کا فیصلہ کرے گی لیکن اجلاس کے بعد نیوز بریفنگ میں صورتحال اس کے برعکس رہی۔
![]() | |
| بریفنگ کے دوران قاضی حسین احمد خاموش بیٹھے رہے |
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان اور وزیرستان میں فوجی آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے۔ ان کے مطابق بلوچستان میں جو بھی صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ جرنیلوں کے ناعاقبت اندیشانہ فیصلوں کی وجہ سے ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے پاکستان پیپلز پارٹی سے کہا کہ وہ حدود قوانین میں ترمیم کے بل کی حمایت کرکے فوجی حکمرانوں کو ہٹانے کی جدوجہد کو کمزور نہ کرے۔
بریفنگ کے دوران قاضی حسین احمد خاموش بیٹھے رہے اور ایک موقع پر جب بلوچستان میں حکومت سے علیحدگی کے فیصلے پر اتفاق نہ ہونے کے تناظر میں ایک صحافی نے پوچھا کہ کیا یہ سمجھا جائے کہ قاضی حسین احمد ناکام ہوگئے ہیں تو اس پر قاضی مسکراتے رہے اور مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ آپ کے سوال ختم ہوگئے ہیں اس لیئے خدا حافظ۔