Wednesday, 30 August, 2006, 07:36 GMT 12:36 PST
پاکستانی خفیہ احجنسی کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ کے نزدیک عسکریت پسندوں نے امریکہ اور افغانستان کے لیئے جاسوسی کرنے کے شلک میں دو افراد کا سر قلم کردیا ہے۔ دونوں افراد کی لاشیں میران شاہ کے نزدیک دو مختلف گاؤں سے بدھ کی صبح ملی ہیں۔
ان دو افراد میں سے ایک 45 سالہ نور ولی اور دوسرا 30 سالہ افغان پناہ گزین حق نواز تھا۔ کچھ خبر رساں ادارے دونوں ہی افراد کو افغان پناہ گزین بتا رہے ہیں۔ یہ لوگ شمالی وزیرستان ہی میں رہائش پذیر تھے۔
دونوں لاشوں کے ساتھ پشتو زبان میں لکھے گئے پرچے چھوڑے گئے ہیں جن میں ان افراد پر امریکی اور افغان حکام کے لیئے جاسوسی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ ان ہی تحریری پیغامات کے ذریعے دونوں کے ناموں کو شناخت کیا گیا ہے۔
خفیہ ایجنسی کے ایک اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھتے ہوئے بتایا ہے کہ نور ولی کی لاش کھٹی خیل گاؤں کی ایک سڑک کے کنارے سے ملی ہے جہاں ان کی لاش اور تن سے جدا کیا گیا سر ساتھ ساتھ پڑے ہوئے تھے۔
افغان پناہ گزین حق نواز کی لاش درپخیل گاؤں سے ملی جہاں شدت پسندوں نے اس کا کٹا ہوا سر اس کے سینے پر رکھا ہوا تھا اور ساتھ ہی ایک تحریری پیغام بھی چھوڑا تھا جس پر درج تھا: ’یہ کرزئی کے لیئے ایک تحفہ ہے‘۔
پیر کو بھی ایک شخص کی لاش شمالی وزیرستان سے برآمد ہوئی تھی۔ یہ شخص بھی افغان پناہ گزین تھا اور اسے گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا اور ساتھ ہی تحریری پیغام بھی تھا جس میں اس پر امریکی ایجنٹ ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔
ان ہلاکتوں کے لیئے مقامی طالبان اور القاعدہ کے ارکان کو ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے۔
اس سال ان علاقوں میں اسی نوعیت کے کئی واقعات ہوئے ہیں۔ ہلاک کیئے جانے والے افراد پر امریکہ اور افغانستان کے لیئے جاسوسی کرنے یا القاعدہ کے خلاف جنگ میں پاکستانی حکومت کا ساتھ دینے کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔
پاکستان نے افغانستان کےساتھ سرحد پر قریباً اسی ہزار فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔