Thursday, 31 August, 2006, 00:14 GMT 05:14 PST
رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور
ملک کے دیگر شہروں کی طرح پشاور میں بھی جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔
بدھ کے روز پشاور میں قوم پرست جماعت عوامی نیشنل پارٹی اور اتحاد برائے بحالی جمہوریت یا اے آر ڈی کے زیر اہتمام مرحوم رہنما اکبر بگٹی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیئے گئے۔
پہلا مظاہرہ اے آر ڈی کے زیرِ اہتمام منعقد ہوا جو بعد از نماز ظہر مسجد قاسم علی خان سے شروع ہوا اور مسگراں چوک میں اختتام پذیر ہوا۔ مظاہرے میں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صوبائی رہنما رحیم داد خان ، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما مختار یوسف زئی اور مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں نےبھی شرکت کی۔ مظاہرین نے کتبے اور بینرز اٹھارکھے تھے جس پر ’ظالموں خون کا حساب دو اور قاتل قاتل جنرل قاتل’ کے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے اس موقع پر حکمرانوں کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔
شرکاء جلوس کی شکل میں چوک مسگراں پہنچے جہاں پر مرحوم رہنما اکبر بگٹی کی غائبانہ نماز جنازہ تاریخی مسجد محبت خان کے خطیب مولانا یوسف قریشی نے پڑھائی ۔ اس موقع پر مشرف حکومت کے خاتمے کےلیئے بھی اجتماعی دعا کرائی گئی۔
![]() | |
| عوام نیشنل پارٹی کے اس جلسہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی |
احتجاجی جلوس خیبر بازار سے شروع ہوا اور چوک یادگار میں جاکر جلسے کی شکل اختیار کر گیا۔ اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹراسفندیار ولی خان نے یکم ستمبر کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ملک گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی بلوچ بھائیوں نے اسمبلیوں سے احتجا جاً استعفے دینا چاہے تو اے این پی ان کےساتھ ہوگی اور استعفی دینے میں پہل کرے گی۔
جلوس کے اختتام پر اے این پی کے مرکزی رہنما حاجی غلام احمد بلور نے نواب اکبر خان بگٹی کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی جس میں ہزاروں کے تعداد میں پارٹی کارکنوں اور دیگر لوگوں نے شرکت کی۔