Tuesday, 29 August, 2006, 07:46 GMT 12:46 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
کوئٹہ میں نواب اکبر بگٹی کی غائبانہ نماز جنازہ کے بعد فسادات پھوٹ پڑے ہیں جس میں اب تک ایک پولیس اہلکار سمیت دو افراد زخمی ہوئے ہیں۔
بلوچستان کے انسپکٹر جنرل پولیس چوہدری محمد یعقوب نے بتایا ہے ایک بینک کو اور سٹیڈیم کی عمارت کو نقصان پہنچایا گیا ہے جبکے دیگر مقامات پر بھی توڑ پھوڑ کی گئی ہے لیکن پولیس نے مظاہرین کو محدود علاقے تک قابو میں رکھا ہوا ہے۔
ایوب سٹیڈیم میں نماز جناز کے بعد مشتعل ہجوم جب باہر نکلے تو انھوں نے سخت نعرہ بازی کی اور عمارتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ پولیس اہلکاروں نے ہجوم کو روکا تو سخت کشیدگی پیدا ہو گئی۔ شہر کے بعض علاقوں میں فائرنگ ہوئی ہے۔
چوہدری یعقوب سے جب پوچھا کہ کیا فوج کو طلب کیا جا رہا ہے تو انہوں نے کہا حالات قابو میں ہیں فی الحال فوج کو طلب نہیں کیا جارہا۔
اکبر بگٹی کی میت کہاں ؟ |
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پولیس اہلکار بشیر احمد کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اس سٹیڈیم کے باہر جہاں اکبر بگٹی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جا رہی تھی کم طاقت کے دو بم دھماکے ہوئے۔
خبر رساں ادارے رائٹر کے مطابق کوئٹہ میں مظاہرین اور سکیورٹی اداروں میں جھڑپوں کے دوران مظاہرین نے ایک سکیورٹی چیک پوسٹ کو تباہ کر دیا ہے۔
غائبانہ نماز جنازہ میں بلوچ قائدین کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی ہے ان میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار عطاءاللہ مینگل سابق سپیکر نیشنل اسمبلی الہی بخش سومرو، پیپلز پارٹی بلوچستان کے لیڈر بسم اللہ کاکڑ، نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ، نواب اکبر بگٹی کے صاحبزادے طلال بگٹی جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگٹی، پختونخواہ ملی عوامی پارٹی اور دیگر جماعتوں کے قائدین شریک تھے۔
منتظیم لوگوں سے بار بار پر امن رہنے کی اپیل کرتے رہے۔ نماز جنازہ کے بعد لوگ مشتعل ہوگئے اور سٹیڈیم کے باہر توڑ پھوڑ شروع کر دی۔
پولیس نے اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے لیکن زیادہ تر توجہ زرغون روڈ کے اس حصے پر مرکوز تھی جہاں گورنر ہاؤس وزیر اعلی ہاؤس وزیروں اور اعلی انتظامی افسران کی رہائش گاہیں ہیں اور اس طرف جانے والی تمام شاہراہوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی جہاں کی ہر قسم کی گاڑی کوجانے کی اجازت نہیں تھی۔