Sunday, 27 August, 2006, 11:19 GMT 16:19 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان میں اپوزیشن کے دونوں بڑے اتحاد اے آر ڈی اور مجلس عمل نےبلوچستان کی صورتحال پر اپنے اپنے اجلاس طلب کر لیے ہیں جبکہ بعض دیگر سیاسی جماعتیں بھی موجودہ صورتحال پر غور کے لیے اپنی اپنی پارٹیوں کے اجلاس کر رہی ہیں۔
مجلس عمل کی سپریم کونسل کا اجلاس اتوار کو قاضی حسین احمد کی صدرات میں کراچی میں ہورہاہے۔
ٹارگٹ کلنگ1971 سی صورتحال |
اتحاد برائے بحالی جمہوریت اور مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت پر پریشان ہوئے ہیں اور انہی کی ہدایت پر مسلم لیگ کی سنیٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا ہے جو اے آر ڈی کے اجلاس کے بعد ہوگا۔
اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ ’نواز شریف نے اس صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان اور سرحد کے قبائلی علاقوں کے حالات مذاکرات اور سیاسی عمل سے حل ہوسکتے تھے‘۔
اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ ’نواب اکبر بگٹی اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت پاکستان کی نقصان پہنچانے کی سازش کی ایک اہم کڑی ہے اور اب تمام جمہوری قوتوں کو متحد ہوکر کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا‘۔
انہوں نے کہا کہ’ اپنی فورسز کے ذریعے اپنے مخالف سیاستدانوں اور ملک کی اہم شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ کرکے سن انیس سو اکہتر جیسی صورتحال پیدا کی جارہی ہے جب پاکستان کے دوٹکڑے ہوگئے تھے‘۔
سازش کی ایک اہم کڑی ہے |
انہوں نے کہا کہ ’تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے‘۔
مجلس عمل کے صدر نے کہا کہ ’فوج اپنا ہر معاملہ طاقت کے ذریعے حل کرنا جانتی ہے لیکن اپنے ہی ملک میں کیئے جانے والے اس قسم کے اقدامات کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں‘۔
پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن نے کہا کہ ’مستقبل کے لیے پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں اور نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے خوفناک نتائج مرتب ہونگے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ملک میں تناؤ کی کیفیت ہے ان کے بقول کسی کے برائی پر مبنی مشورے پر یہ کارروائی کی گئی‘۔