Sunday, 27 August, 2006, 07:59 GMT 12:59 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے پولیس کے ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ کوئٹہ میں نواب اکبر بگٹی اور ان کے ساتھیوں کی ہلاکت کے بعد ہزاروں افراد نے احتجاج کیا۔
بلوچستان یونیورسٹی میں طلباء نے اٹھارہ بسوں کو آگ لگا دی جبکہ کوئٹہ میڈیکل کالج میں بھی مشتعل طلباء نے دو بسیں جلا دیں۔ شہر میں ہنگاموں کے دوران ہفتے کی رات گئے پانچ بینکوں کی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
کوئٹہ کے سپرنٹنڈنٹ پولیس وزیر خان ناصر کے مطابق اتوار کو کرفیو کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاج کیا گی۔ انہوں نے کہا کہ دو سو کے قریب افراد نے سڑکوں پر ٹائر جلا ئے۔
وزیر خان ناصر نے بتایا ہےکہ سریاب روڈ بروری بلوچستان یونیورسٹی اور بولان میڈیکل کالج میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے بعد درجنوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں اکثریت طلباء کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے اور فوج نے کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
سبزل روڈ پر لوگوں نے ٹائر جلا کر روڈ بلاک کر دی تھی جس پر پولیس نے آنسو گیس کے شیل پھینکے ہیں اور بعض مقامات پر لاٹھی چارج کیا گیا ہے۔
بلوچستان یونیورسٹی کے طالب علموں نے بتایا ہے کہ یونیورسٹی میں طلباء نے احتجاجی جلوس نکالا ہے اور عمارت پر پتھراؤ کیا ہے، اس کے علاوہ گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
حکومت نے کسی بھی نا خوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے سخت حفاطتی انتظامات کیئے ہیں۔ سریاب روڈ اور دیگر حساس علاقوں میں پولیس کے دستے تعینات کر دیئے گئے ہیں اور شہر سے باہر جانے والے راستوں پر گاڑیوں کی چیکنگ کی جا رہی ہے۔
گوادر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق وہاں بھی مشتعل مظاہرین نے مختلف جگہوں پر توڑ پھوڑ اور احتجاج کیا ہے۔ گوادر میں مسلم لیگ کے دفتر پر حملہ کیا گیا۔
خصدار میں اتوار کو ایک بہت بڑا احتجاجی جلسہ منعقد کیا جا رہا ہے۔
دریں اثناء بلوچ قوم پرست جماعتوں نے اتوار کے روز ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں اس واقعے کے حوالے سے پالیسی مرتب کی جائے گی۔